اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق نوری مالكي نے جو علاج کے لئے بیروت گئے ہوئے تھے، اس سفر میں سید حسن نصراللہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سید حسن نصر اللہ نے امریکہ و سعودی عرب کے خلاف نوری مالكی کی شجاعانہ پالیسیوں اور اسی طرح عراق کی خودمختاری و یکجہتی کی حفاظت نیز ملک کی تقسیم بندی کے سلسلے میں دی گئ لالچ سے متعلق ان کی مزاحمت کی تعریف کی۔
بتایا جاتا ہے کہ مالكی کو تجویز دی گئی تھی کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ تیسری بار عراق کے وزیر اعظم بنیں تو انہیں كردوں کی جانب سے تیل فروخت کرنے کے موضوع پر خاموشی اختیار کرنا ہوگی اور اسی طرح كردوں کے کچھ دیگر مطالبات بھی تسلیم کرنے ہوں گے۔
اس تجویز کے مطابق عراقی كردستان، شام کے کچھ علاقے کو ملا کر اردن سے جڑ جاتا اور اس طرح متبادل ملک کے صیہونی حکومت کے منصوبے پورے ہونے کا راستہ ہموار ہو جاتا لیکن نوری مالكی نے ان مطالبات کو مسترد کر دیا۔
حسن نصراللہ نے اسی طرح عراق کی سالمیت کی حفاظت کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے کہ وہ عراق کو کمزور کر سکے۔
اس ملاقات میں عراق کے نائب صدر نوری مالكی نے ایک بار پھر ان افواہوں کی تردید کی کہ وہ حیدر العبادي کو ملک کا وزیر اعظم بنائے جانے کے مخالف تھے اور وہ نئی حکومت کے خلاف بغاوت کا پروگرام بنا رہے ہیں۔
.......
/169