1 دسمبر 2014 - 14:53
داعش کچھ بھی نہیں ۔۔۔

صاف ظاہر ہے کہ دہشت گردوں کا جو بھی نام رکھ لیں اور وہ جس ٹولے سے بھی تعلق رکھتے ہوں، ان کا وجود جس طرح عالمی استعمار کے لئے ذریعہ آمدن ہے، اسی طرح ہمارے ہاں کے مقامی استعمار کے لئے بھی ایک سود مند تجارت ہے۔ انہی گروہوں کے ذریعے عالمی استعمار اپنے مفادات حاصل کر رہا ہے۔ لہذا جب تک ہم ایک مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے سوچ بچار نہیں کریں گے، دہشت گردوں کے آگے دبے رہیں گے، کرپٹ اہلکاروں سے خوفزدہ اور بدعنوان عناصر کے سامنے خاموش رہیں گے تو اس وقت تک ہمارے اس ملک میں داعش اور دہشت گرد بھی باقی رہیں گے۔ اس لئے کہ حقیقت میں داعش اور دہشت گردی کچھ بھی نہیں صرف بھتہ وصول کرنے کا ایک بہانہ ہے۔ خواہ یہ بھتہ عالمی استعمار وصول کرے یا ہمارے ہاں کا مقامی استعمار۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا : تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں۔ البتہ کچھ تصاویر ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے دو کے بجائے ان گنت رخ ہوتے ہیں۔ خصوصاً اگر تصویر تجریدی آرٹ کی شاہکار ہو تو پھر تو ہر رخ کے اندر بھی ایک رخ ہوتا ہے۔ لیکن داعش [1]کے مخالفین کو داعش کی تصویر میں صرف اور صرف اس کا منفی رخ ہی دکھائی دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب آپ مشرقی افق پر بیٹھ کر تاریخ کی دوربین کے ذریعے دنیائے اسلام کے قلب و جگر میں داعش کے وائرس کو دیکھیں گے تو آپ کو میڈیا کے پردوں میں چھپے ہوئے "سرطان" کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آئے گا۔ لیکن اگر آپ تل ابیب کے لرزتے ہوئے ایوانوں کی فصیل کے سائے میں بیٹھ کر وائٹ ہاوس کی عمارت پر ایک نگاہ ڈالیں گے تو آپ کو "داعش" ایک مضبوط اور محکم ستون کی مانند نظر آئے گی۔ ایک ایسا ستون جس نے کانپتے ہوئے اسرائیل، سہمے ہوئے امریکہ، ڈرے ہوئے بعثیوں اور ہانپتے ہوئے ڈکٹیٹر عرب حکمرانوں کو وقتی طور پر سہارا دے رکھا ہے۔

استعماری طاقتوں کو داعش کے سہارے کی ضرورت بہت پہلے محسوس ہوگئی تھی۔ ظاہری اعدادوشمار کے مطابق جب امریکہ نے 2006ء میں عراق پر حملہ کیا تو امریکیوں نے اپنے اگلے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے 15 اکتوبر2006ء کو عراق میں موجود دہشت گرد گروہوں کو "دولۃ الاسلامیہ فی العراق" کے نام سے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، جس کا کرتا دھرتا ابو عمر البغدادی کو نامزد کیا گیا۔ جس کے بعد 2006ء میں ہی داعش کے ابتدائی تربیتی مراکز امریکہ کی سرپرستی میں اردون میں قائم کئے گئے۔" 2006ء سے 2014ء تک "اندرون خانہ حکمت عملی" کا کام مکمل کیا گیا۔ اس دوران اندرون خانہ حکمت عملی کے تحت دو اہم کام کئے گئے۔ ایک تو دنیا کے مختلف ممالک سے جوانوں کو بھرتی کیا گیا اور دوسرے اسی عرصے میں دنیا کے متعدد ممالک میں داعش کے نیٹ ورک کی داغ بیل ڈالی گئی۔ نمونے کے طور پر کچھ نیٹ ورکس کا تعارف ہم کروائے دیتے ہیں:
تحریک شباب صومالیہ: 
2007ء میں صومالیہ میں فعّال شدت پسند اسلامی گروہوں کو ملاکر تحریک شباب صومالیہ قائم کی گئی، جس نے تھوڑے ہی عرصے میں صومالی فوج کو شدید زک پہنچائی۔ 
مغربی اسلامی اور شمال مغربی اسلامی ممالک میں داعش کا قیام:
تحریک شباب نے ہی مغربی اسلامی اور شمال مغربی اسلامی ممالک میں سرگرم جنگجووں کو اپنے ساتھ ملایا اور اپنی سرگرمیوں کو ان مناطق میں رفتہ رفتہ آگے بڑھایا۔
لیبیا میں انصارالشّریعہ کا قیام:
قذافی کی عبرتناک موت کے بعد لیبیا کے مشرقی حصے میں پہلے سے موجود شدّت پسند گروہ "جماعت اسلامی لیبیا" کے نیٹ ورک کو داعش کے سانچے میں ڈھال کر وہاں انصارالشّریعہ قائم کی گئی۔
یمن میں انصارالشّریعہ کا قیام: 
2011ء سے 2012ء کے دوران یمن میں داعش کی شاخ قائم کرنے کے لئے اس نئی حکمت عملی کے تحت وہیں پر موجود موجود "القاعدہ جزیرۃ العرب" نامی گروہ کو "انصارالشّریعہ" نامی گروہ میں تبدیل کیا گیا اور یوں یمن میں داعش وجود میں آگئی۔
 عراق میں داعش کا قیام:
عراق میں پہلے زرقاوی کی سربراہی میں "القاعدہ آف عراق" کو پروان چڑھایا گیا، بعد ازاں اسی نیٹ ورک کو داعش کے نیٹ ورک میں تبدیل کیا گیا۔ [2]
شام میں داعش کا قیام:
آج سے تقریباً تین سال پہلے [3] ترکی کی سرحد کے قریب شام کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں القاعدہ آف شام، جبھۃ النصرہ اور اس طرح کے دیگر چند گروہوں کو فعال کرکے ان کے اختلاط سے داعش کو جنم دیا گیا۔ [4] 2011ء کے آخر میں جبھۃ النصرہ نے اپنے آپ کو داعش کی شاخ کہنا شروع کیا اور بہت سارے دہشت گردی کے واقعات کو اپنے ذمے لیا۔ اس وقت شام میں رقه، حلب، حومه لاذقیه، حومه دمشق، دیرالزور، حمص، حماه، حسکه و ادلب جیسے علاقوں میں داعش وقتاً فوقتاً اپنے وجود کا اظہار کرتی رہتی ہے۔
پاکستان میں داعش کا قیام:
ایک نظریے کے مطابق پاکستان میں اسامہ بن لادن کے قتل کے ساتھ ہی دہشت گرد گروہوں کو ایک نیا اور بین الاقوامی پلیٹ فارم مہیّا کرنے کے لئے داعش کے قیام کی خاطر کام شروع ہوگیا تھا۔ اس سلسلے میں دیگر ممالک کی مانند پاکستان میں بھی پہلے سے موجود سرگرم انتہا پسند تنظیموں کے کچرے سے ہی "داعش سازی" کی گئی ہے۔ اب پاکستان میں داعش کے وجود کے اظہار اور جواز کے لئے ایک خاص فرقہ وارانہ ماحول کی ضرورت ہے، چنانچہ سپاہِ صحابہ اور تحریک جعفریہ سے بھی پابندی ہٹائی گئی ہے، تاکہ تصادم اور ٹکراو کی فضا تیار ہوسکے۔ البتہ امید ہے کہ ہمارے ہاں کا مقامی استعمار سپاہ صحابہ اور تحریک جعفریہ کے نام کو استعمال کرنے میں ناکام رہے گا۔ [5]
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں کچھ شدت پسندوں نے اپنے آپ کو داعش سے منسلک کہنا بھی شروع کردیا ہے اور داعش کے نام سے وال چاکنگ بھی شروع ہوچکی ہے۔ 16 اکتوبر 2014ء کو امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے انکشاف کیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد اور اس تنظیم کے 5 دیگر اہم کمانڈر داعش میں شامل ہوگئے ہیں۔ 16 اکتوبر کو ہی کراچی میں داعش کی طرف سے وال چاکنگ دیکھنے کو ملی۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ستمبر میں پشاور کے قصہ خوانی اور خیبر بازار میں پشتو اور دری میں لکھے گئے پمفلٹ تقسیم کئے گئے تھے، جن میں داعش کا تعارف اور اغراض و مقاصد درج تھے۔
اسی طرح ڈان نیوز میں بلوچستان کے داخلہ اور قبائلی امور کے محکمے کی شائع شدہ ایک سیکرٹ انفارمیشن رپورٹ کے مطابق داعش نے ہنگو اور کرم ایجنسی میں دس سے بارہ ہزار کے لگ بھگ جنگجو بھرتی کئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کیا گیا ہے کہ داعش نے لشکر جھنگوی (ایل ای جے) اور اہل سنت والجماعت (اے ایس ڈبلیو جے) کے کچھ عناصر کو پاکستان میں خود سے ہاتھ ملانے کی پیشکش کی ہے جبکہ اس عسکریت پسند تنظیم نے دس رکنی ایک اسٹرٹیجک پلاننگ ونگ بھی قائم کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق داعش نے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب کے جواب میں خیبر پختونخوا میں فوجی تنصیبات اور حکومتی عمارتوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے جبکہ وہ اہل تشیع کو بھی ہدف بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ [6]

یہ سب تو مختلف ممالک میں داعش کے قیام کا ایک مختصر نقشہ تھا، جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ داعش کوئی نیا گروہ نہیں بلکہ پہلے سے موجود القاعدہ اور القاعدہ سے ہم فکر گروہوں کی ہی نئی شکل ہے۔ لیکن اس وقت ہمارے لئے دو سوال بہت اہم ہیں، ایک یہ کہ طالبان اور القاعدہ کے ہوتے ہوئے مغربی طاقتوں نیز امریکہ اور اسرائیل کو داعش نامی گروہ تشکیل دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اور دوسرا یہ کہ پاکستان کے حکمرانوں کے داعش سے کیا مفادات وابستہ ہیں۔؟

جہاں تک مغربی طاقتوں نیز امریکہ اور اسرائیل کی بات ہے تو یہ امر ہم سب پر عیاں ہے کہ "مسٹر صدام" اپنی زندگی میں مذکورہ طاقتوں کے لئے ایک محکم ستون کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے صرف کویت پر جو چڑھائی کی تھی، اسکے تناظر میں امریکہ نے مدد کرنے کی مد میں کویت اور سعودی عرب سے 963 بلین ڈالر وصول کئے تھے۔ اب آپ ایران اور صدام کے مابین 8 سالہ جنگ کے دوران خلیجی ریاستوں سے امریکی بھتے کی وصولی کا تخمینہ خود سے لگالیں۔ صدام کے زوال کے بعد "جنگ کے نام پر مدد" کرنے کے استعماری کاروبار کو سخت دھچکا لگا اور طالبان و القاعدہ سمیت دنیا بھر کے شدت پسند گروہوں میں سے کوئی بھی صدام کے خلا کو پُر نہیں کرسکا۔ اس وقت عرب دنیا میں اسلامی بیداری، ایران، عراق و افغانستان میں مضبوط ہوتا ہوا شیعہ سنّی اتحاد نیز سعودی عرب اور ایران کے بڑھتے ہوئے مراسم سے عصرِ حاضر کی کاروباری اور استعماری دنیا کے مفادات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

فی الحال ایک طرف تو اس منطقے میں اب کوئی بھی حکمران "صدام" بننے کے لئے تیار نہیں ہے اور دوسری طرف طالبان اور القاعدہ سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کی پشت پناہی کی وجہ سے عام لوگ بھی مغرب اور امریکہ سے متنفّر ہیں۔ اسلامی دنیا کے دانشمندوں اور علماءِ کرام کی اکثریت اب استعماری فارمولے "لڑاو اور کماو" کو سمجھ چکی ہے۔ [7] امریکی جہادی صنعت کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے [8] اور اب نفرت انگیز فتوے بیچنے والوں اور اسلحہ تقسیم کرنے والوں کا دھندہ اپنی مقبولیّت کھو چکا ہے۔ ایسے میں استعماری طاقتوں کو فوری طور پر اب کسی ایسے سہارے کی ضرورت ہے جو صدام کا متبادل بنے۔ جس سے شیعہ اور سنّی دونوں ڈریں اور تمام اسلامی ممالک اس "متبادل صدام" کے خلاف استعمار سے مدد لینے پر مجبور ہوجائیں اور اس طرح استعمار مسلمان ممالک سے بھتہ وصول کرتا رہے۔

اب رہی یہ بات کہ پاکستان کے حکمرانوں کے داعش سے کیا مفادات وابستہ ہیں؟ تو اس سلسلے میں یہ عرض ہے کہ شدّت پسند گروہوں کو فعال کرکے صرف بڑی طاقتیں ہی بھتہ وصول نہیں کرتیں بلکہ ہمارے ہاں کا مقامی استعمار بھی انہی شدّت پسندوں کی مدد سے اپنی تجوریاں بھرتا ہے۔ آپ اس وقت صرف کوئٹہ سے لے کر تفتان تک کے راستے میں ہونے والی لوٹ مار اور رشوت خوری کا جائزہ لے کر دیکھ لیں، اسی سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ دہشت گردی کی وارداتوں سے لوگوں کو ہراساں کرکے سرکاری کارندے کس طرح لوٹتے ہیں۔ اس روٹ پر سفر کرنے والے مسافرین اور متاثرین کے مطابق [9] راستے میں قدم قدم پر سرکاری ملازمین چائے پانی کا تقاضا کرتے ہیں اور اگر آپ انہیں چائے پانی نہ دیں تو آپ کے رکھوالے آپ کی حفاظت کی خاطر آپ کو گاڑی سے اتارکر وہیں اپنے پاس بٹھا لیتے ہیں۔ بعض اوقات ڈرائیور حضرات، سواریوں سے چندہ اکٹھا کرکے سرکاری ڈیوٹی پر مامور قومی رکھوالوں کو چائے پانی پیش کرتے ہیں۔

کئی مقامات پر لوگوں کے پاسپورٹ چیک کرکے شیعہ سواریوں کو الگ کیا جاتا ہے جو کہ سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی ناقص قدم ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو مزید ہراساں کرنے کا ایک حربہ بھی ہے۔ [10] اسی طرح تاریک اور یخ بستہ صحراوں میں مسافروں کو روک دیا جاتا ہے۔ اگر کہیں پر سرکار کا دل اور کسی اہلکار کی جیب نہ بھرے تو مسافروں سے بھری ہوئی بسوں کو واپس بھی بھیج دیا جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ گاہے بگاہے ڈاکووں کے بھیس میں گاڑیوں کو لوٹ بھی لیا جاتا ہے۔ا ب آپ اسی سے اندازہ لگائیں کہ دہشت گردی کی آڑ میں تفتان بارڈر لوٹ مار کی مارکیٹ میں تبدیل ہوچکا ہے لیکن میڈیا سمیت کسی کے پاس وقت نہیں کہ وہ اس لوٹ مار کے خلاف آواز اٹھائے۔ یہ تو صرف تفتان بارڈر کی صورتحال ہے، آپ دنیا بھر میں ان جگوں پر لوٹ مار کا اندازہ کریں، جہاں ہرروز دہشت گردی ہوتی ہے۔

اسی طرح پاکستان کے اندر آجائیں، ہمارے ہاں معیاری اور قومی نظام تعلیم کی کوئی بات ہی نہیں، لوگوں کو پینے کا صاف پانی تک میسّر نہیں، شہروں اور بازاروں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، صفائی اور ہیلتھ کے شعبے کی تو بات ہی نہ کریں، بے روزگاری و بے کسی درودیوار سے ٹپک رہی ہے، مسئلہ کشمیر فراموش ہوچکا ہے اور ملک میں ہر طرف مارا ماری کا دور دورہ ہے۔ کوٹلی آزاد کشمیر کے پاسپورٹ آفس سے لے کر تہران میں قائم پاکستان ایمبیسی تک انسانی حقوق نام کی کوئی چیز نہیں ۔۔۔ 

یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے چونکہ لوگ دہشت گردی سے دبے ہوئے ہیں، عالمی اور مقامی استعمار کے حکم پر مٹّھی بھر دہشت گردوں نے پوری قوم کو ہراساں کر رکھا ہے۔ آئے روز دانشمند قتل ہو رہے ہیں، مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر مار دیا جاتا ہے، مسجدوں اور امام بارگاہوں میں خودکش حملے کئے جاتے ہیں، جوانوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔۔۔ ایسے میں کون ہے جسے انسانی حقوق کا ہوش ہو، جو رشوت اور کرپشن سے نجات کے بارے میں سوچ سکے، جو مسئلہ کشمیر کو اپنی اوّلین ترجیح قرار دے، جو ۔۔۔

صاف ظاہر ہے کہ دہشت گردوں کا جو بھی نام رکھ لیں اور وہ جس ٹولے سے بھی تعلق رکھتے ہوں، ان کا وجود جس طرح عالمی استعمار کے لئے ذریعہ آمدن ہے، اسی طرح ہمارے ہاں کے مقامی استعمار کے لئے بھی ایک سود مند تجارت ہے۔ انہی گروہوں کے ذریعے عالمی استعمار اپنے مفادات حاصل کر رہا ہے۔ لہذا جب تک ہم ایک مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے سوچ بچار نہیں کریں گے، دہشت گردوں کے آگے دبے رہیں گے، کرپٹ اہلکاروں سے خوفزدہ اور بدعنوان عناصر کے سامنے خاموش رہیں گے تو اس وقت تک ہمارے اس ملک میں داعش اور دہشت گرد بھی باقی رہیں گے۔ اس لئے کہ حقیقت میں داعش اور دہشت گردی کچھ بھی نہیں صرف بھتہ وصول کرنے کا ایک بہانہ ہے۔ خواہ یہ بھتہ عالمی استعمار وصول کرے یا ہمارے ہاں کا مقامی استعمار۔
 ۔۔۔۔۔۔۔

/169