اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراقی فوج کے ایک اعلی عہدیدار نے بتایا کہ جمعے کو عراقی فوجیوں نے صلاح الدین قصبے کے اہم علاقے بیجي کے 70 فیصد سے زیادہ حصے پر تكفيري دہشت گردوں سے شدید لڑائی کے بعد مکمل طور پر کنٹرول کر لیا ہے جس میں اس ملک کی سب سے بڑی رفائنري بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراقی فوجی باقی بچے ہوئے حصے پر کنٹرول کے لئے لڑ رہے ہیں۔
عراقی فوج کے ایک اور اعلی افسر نے بھی بتایا کہ عراقی فوجیوں نے بیجي میں بڑی کامیابی حاصل کی اور اس قصبے میں پولیس ہیڈکوارٹر سمیت بڑی عمارتوں پر اس وقت ملک کا پرچم لہرا رہا ہے۔ عراقی اہلکار کے مطابق بیجي کے باقی بچے حصے کو آزاد کرانے کے لئے کارروائی کی رفتار تھوڑی سست ہو جائے گی کیونکہ غیرملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں نے سڑکوں پر بڑی تعداد میں دھماکہ خیز مواد لگا رکھے ہیں۔
عراقی فوج نے اکتوبر کے آخر میں بیجي میں اپنی کارروائی شروع کی تھی۔ اس قصبے پر کئی ماہ سے داعش کا قبضہ تھا۔ یہ قصبہ شمالی موصل سٹی جانے والے اہم راستہ پر واقع ہے اور موصل سٹی پر اس وقت داعش کے دہشت گردوں کا قبضہ ہے۔ بیجي کے آزاد ہونے سے دہشت گردوں کو رسد پہنچانے والا راستہ بند ہو جائے گا۔
عراق کی وزارت دفاع نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ عراقی فضائیہ نے تیل کی دولت سے مالا مال بیجي میں داعش کے ٹھکانوں پر شدید حملے کیے ہیں۔
مشرقی شام اور شمالی اور مغربی عراق کے حصوں پر اس وقت تكفيری دہشت گردوں کا قبضہ ہے۔ عراقی فوج اب تک اس دہشت گرد گروہ کے خلاف جنگ میں کئی مقامات کو خالی کرانے میں کامیاب رہی ہے اور اس نے اس شدت پسند گروہ کے صفائے تک مہم جاری رکھنے کا عہد لیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169