اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صوبہ صلاح الدین کے سیکورٹی ذرائع نے بھی بتایا ہے کہ شہر بیجی میں بھی عراقی فوج، عوامی فورسز کی مدد سے شہر کے مرکزی حصے کے قریب پہنچ گئی ہے اور بیجی ریفائنری کے محاصرے کوتوڑنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ جبکہ صوبہ الانبار میں عراقی فوج نے شہر الرمادی کو داعش دہشتگردوں کے محاصرے سے آزاد کرانے میں کامیابی حاصل کرلی۔
ادھر شام سے کچھ اس قسم کی خبریں مل رہی ہیں کہ شام میں سرگرم عمل داعش دہشتگرد گروہ شہر کوبانی پر حملے میں ممنوعہ ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق روس کے ٹی آر ٹی، ٹی وی چینل نے ایک رپورٹ میں شام کے شمالی شہر کوبانی کے ان علاقوں کی تصاویر دکھائی ہیں جہاں داعش دہشتگرد گروہ نے ممنوعہ بم اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔ اس شہر میں داعش دہشتگردوں نے وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور لاشوں پر موجود نشانات سے بھی بخوبی پتہ چلتا ہے کہ یہ گروہ، ممنوعہ ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس شہر میں تکفیری دہشتگردوں کو شکست کا سامنا ہے۔
ہمارے ساتھی نے اس موضوع پر ہندوستان کے عالمی امور کے تجزیہ نگار قمر آغاسے گفتگو کی اور ان سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کی کہ عراق اور شام کے کئی علاقوں میں داعش کو ہونے والی شکست کے بعد امریکہ کی جانب سے اس بیان کا سامنے آنا کہ داعش کے حملوں کا امکان ہے نفسیاتی جنگ کی نشاندہی نہیں کر رہا ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھا۔
قمر آغا کا انٹرویو سننے کے لیے نیچے میڈیا پلیئر پر کلک کیجیے۔
ایسے حالات میں کہ جب عراق اور شام میں دہشت گردی کے خلاف عوامی اور رضاکار فورسز کے مقابلے میں تکفیری دہشت گرد گروہ کو شکست کا سامنا ہے، داعش نے اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر نفسیاتی جنگ کا محاذ کھول دیا ہے۔ داعش کے مقابلے میں عراقی عوام اور شام کے شہر کوبانی کے باشندوں کی کامیابی کے باعث، داعش کے حامی، میڈیا پروپیگنڈوں کے ذریعے عراق اور شام میں عوامی فورسز کے مقابلے میں داعش کی عسکری طاقت کو برتر ثابت کرنے میں کوشاں ہیں۔
شام کے شمالی شہر کوبانی میں عوامی فورسز کی استقامت کا نتیجہ ہے کہ اس شہر کے اکثر علاقوں سے داعش کی پسپائی اور اسی طرح عراق میں مختلف محاذوں پر داعش کی پےدرپے شکست کے سبب اس گروہ کے حامیوں کو نفسیاتی جنگ کا محاذ کھولنا پڑا ہے۔
امریکہ کے معروف محقق نوام چامسکی نے دہشت گرد تکفیری گروہ داعش کی تشکیل کو عراق پر امریکی اور برطانوی فوجیوں کے دس سالہ قبضے کا نتیجہ قرار دیا ہے ۔
اب جبکہ انتہا پسند اور تکفیری گروہوں کے ساتھ شامی حکومت کی جنگ اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے، مغربی ممالک شام کی حکومت کو سرنگوں کرنے کے درپے ہیں لیکن علاقے کے بحرانی اور حساس حالات کے پیش نظر مغرب کی یہ کوشش بہت خطرناک نظر آتی ہے۔ شام میں جاری بدامنی کو تین سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد ایسا نظر آتاہے کہ مغرب شامی حکومت کے مخالف جن گروہوں کو اعتدال پسند گروہوں کے نام سے موسوم کرتا ہے وہ متفرق، جاہ طلب اور کمزور ہیں ۔ یہی امر سبب بنا کہ انتہا پسند اور تکفیری گروہوں نے شام میں مورچے سنبھال ليے اور نام نہاد مغرب پرست اور سیکولر اعتدال پسندوں سے جدت عمل چھین لی۔ اس وقت اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ شام مخالف نام نہاد اعتدال پسند گروہوں کو مغرب کی جانب سے بھیجی جانے والی امداد، ان گروہوں تک پہنچے گی اور سرانجام شام کے سیاسی نظام کو سرنگوں کرنے میں کام آ سکے گی۔ انتہائی موثق ذرائع نے بارہا یہ اعلان کیا ہے کہ شام میں حکومت مخالفین کو امریکہ اور یورپ کی جانب سے بھیجے جانے والے میزائیلوں سمیت بعض ہتھیار تکفیری دہشت گرد گروہوں، داعش اور جبہۃ النصرہ کے پاس دکھائی دیتے ہیں اور داعش گروہ کے افراد انہی ہتھیاروں سے شام کی حکومت اور نام نہاد امریکی اتحاد، دونوں سے برسر پیکار ہیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ ایک جانب مغربی ممالک یہ چاہتے ہیں کہ شام کے خلاف خود شروع کردہ جنگ میں کسی صورت کامیابی حاصل کر کے اس کامیابی کو، اپنے بھاری سیاسی، مالی اور فوجی تعاون کی پاداش قرار دیں اور دوسری جانب انہی مغربی ممالک کو اس تصور سے شدید تشویش لاحق ہے کہ شام میں انتہا پسند اور تکفیری گروہ، شام کے سیاسی نظام کا تختہ الٹ کر خود حکمراں نہ بن جائیں۔
.......
/169