اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاوس مشرق وسطی میں فوجی بھیج کر صیہونی حکومت کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ امریکہ نے مشرق وسطی میں وسیع پیمانے پر فوجی موجودگي کا منصوبہ بنایا ہے۔ اخبار جام جم نے لکھا ہےکہ عراق، کویت، اردن اور سعودی عرب کے لئے فوجی ماہرین کا بھیجا جانا اسی ھدف کے تحت ہے۔ ماہرین کے بقول امریکہ نے دراصل داعش اور شام کو بہانہ بناکر مشرق وسطی کے علاقے میں اپنی فوجی موجودگي کے جواڑ اکٹھا کرلئے ہیں۔ اس اخبار نے لکھا ہے کہ امریکہ مشرق وسطی میں اپنے اور صیہونی حکومت کے مفادات کے تحفظ کے لئے پیشگي اقدامات کررہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکہ براہ راست شام میں فوج نہيں بھیجے گا کیونکہ اسے اب عراق و افغانستان کے تجربے سے ڈر لگنے لگا ہے لیکن وہ اپنے اھداف کے لئے انٹلجنس ایجنٹوں اور عرب ملکوں کی فوجوں نیز تکفیری دہشتگرد گروہوں کو استعمال کرے گا۔ قابل ذکر ہے مغربی ملکوں نے دہشتگردی سے مقابلے کا بہانہ بنا کر شام میں ان دہشتگردوں کے خلاف حملے شروع کردئے ہیں جنہیں خود مغربی ممالک اور ان کے عرب اتحادیوں نے پروان چڑھایا ہے۔
.......
/169