29 ستمبر 2014 - 07:41
میانمار، مسلمانوں کے خلاف حکومت کی نئی سازش

میانمار کی حکومت نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت روہنگيا مسلمانوں سے کہا جائے گا کہ وہ یا تو خود کو بنگالی شہری کے طور پر رجسٹرڈ کرائیں یا پھر گرفتار ہونے کے لئے تیار ہو جائیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق میانمار کی حکومت نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت روہنگيا مسلمانوں سے کہا جائے گا کہ وہ یا تو خود کو بنگالی شہری کے طور پر رجسٹرڈ کرائیں یا پھر گرفتار ہونے کے لئے تیار ہو جائیں۔

روہنگيا مسلمان میانمار کے مغربی صوبے راخين میں رہتے ہیں۔ یہ مسلمان میانمار میں مختلف قسم کے امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ 2012 میں انتہا پسند بدھسٹوں کے حملے میں سیکڑوں روہنگيا مسلمان مارے گئے تھے اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔ اس دوران تقریبا ڈیڑھ لاکھ روہنگيا مسلمان بے گھر ہو گئے تھے۔ اب حکومت نے منصوبہ بنایا ہے کہ دس لاکھ روہنگيا مسلمانوں سے کہا جائے گا کہ وہ خود کو بنگلہ دیشی شہری کے طور پر رجسٹرڈ کرائیں ورنہ ان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روہنگيا مسلمان اگر ایسا کرتے ہیں تو انہیں ميمار کی شہریت ملنے کا امکان پایا جاتا ہے۔ ميمار کے روہنگيا مسلمان، اس سے پہلے بھی خود کو بنگالی شہری کے اظہار کے سرکاری فیصلے کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی اس تجویز کو قبول کرنے کی صورت میں انہیں غیر قانونی بنگالی مہاجرین قرار دے دیا جائے گا۔
.....

/169