اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہفتہ کو اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے ہمسایوں کے ساتھ مذاکرات کے لئے مزید سنجیدگی دکھانا ہو گی۔
ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ پاکستان سےدوستی اورتعاون بڑھانےکے لیے سنجیدہ مذاکرات چاہتےہیں۔ ہم نےپہلے دن سےپڑوسی ملک کے ساتھ دوستی اورتعاون بڑھانےپربات کی کیونکہ ہمارا مستقبل پڑوسیوں سے جڑا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا :یہ دو طرفہ معاملہ ہے اور متنازعہ معاملات اقوام متحدہ میں اٹھانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ہم کشمیر میں سیلاب متاثرین کی مدد کر رہے ہیں اور پاکستان میں بھی سیلاب متاثرین کی مدد کی پیشکش کی۔
دہشت گردی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ نئی اقسام میں سامنے آ رہی ہے اور کوئی ملک بھی اس سے محفوظ نہیں۔
کچھ ملک دہشت گردی کےدرمیان فرق کرتے اور اسے سیاست کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ جب ممالک دہشت گردی میں فرق کریں توان کی نیت پرسوال اٹھناچاہیے۔ پہلی بارجنرل اسمبلی کےاجلاس میں تقریر کرتے ہوئے نریندرمودی کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان دنیا کو ایک خاندان سمجھنے پرعمل پیرا ہے۔ہندوستان ایسی سماجی تبدیلیوں سے گزررہاہےجس کی مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں توسیع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل ملکوں کو فیصلہ سازی میں شریک کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایک ملک عالمی برادری کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲