اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے، داعش کے خلاف اتحاد میں ایران کے شامل ہونے کے لئے امریکی درخواست کے سلسلے میں قائد انقلاب کے پیر کے بیان کے بعد، اپنے ٹويٹر اکاؤنٹ پر ٹویٹ کیا کہ یہ بات خفیہ نہیں ہے کہ ہم نے عراق میں داعش کے خلاف جدوجہد کے لئے ایران سے مذاکرات کئے اور یہ بات چیت جوہری مذاکرات کے موقع پر ہوئی۔
امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ ان کے ملک نے داعش کے خلاف جدوجہد میں ایران سے مذاکرات کئے تھے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کی جانب سے یہ بیان ایسے حالات میں سامنے آیا ہے کہ اس سے پہلے تک امریکی حکام داعش سے جدوجہد کے بارے میں ایرانی حکام سے کسی بھی قسم کے رابطے کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ اصولی طور پر انہیں اس مہم میں ایران کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اسی طرح وائٹ ہاؤس کے ایک اور ترجمان جاش ارنسٹ نے بھی کہا تھا کہ داعش کے خلاف کارروائی میں امریکا نے کسی بھی قسم کا تعاون نہ طلب کیا اور نہی طلب کرے گا۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے بھی الحدث نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے خلاف کارروائی میں ہم ایران کے ساتھ براہ راست تعاون نہیں کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پیر کو اسپتال سے ڈسچارج ہوتے وقت قائد انقلاب نے اس بات کا انکشاف کیا تھا بغداد میں امریکی سفیر، امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمن نے ایرانی حکام سے داعش کے خلاف کاروائی کے سلسلے میں بات چیت کی تجویز رکھی تھی۔
.......
/169