اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے سلسلے میں ہماری کوششیں کامیاب رہی۔ انہوں نے اپنے بیان میں امریکی فوجی ماہرین اور شہریوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ مقررہ وقت سے ایک ہفتے پہلے ہی شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیروں کی تباہی پر میں آپ کی کوششوں کی قدر کرتا ہوں۔
انہوں نے اسی طرح او پی سی ڈبلیو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کی کوششوں کی وجہ سے ہی شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی تباہی ممکن ہو سکی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم سب کو اس بات کی کوشش کرنا چاہئے کہ شام کی حکومت، عام شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے قابل نہ ہو سکے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ کارروائی واضح پیغام ہے کہ اس قسم کے ہتھیاروں کے استعمال کے مہلک اثرات ہیں اور عالمی برادری اسے معاف نہیں کرے گی۔
واضح رہے کہ مشرقی غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ سے سیکڑوں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے عام شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا جبکہ مخالفین نے حکومت کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال باغیوں کی جانب سے کیا گیا تھا۔
دوسری جانب شام میں جاری بحران کے پیش نظر امریکی ہوابازی کی وزارت نے اپنی تجارتی پروازوں کو شام کی فضائی حدود سے گزرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ اطلاع کے مطابق یہ پابندی آٹھ اگست سے لگائی گی ہے اور امریکہ کے تجارتی طیاروں پر شام اور عراق کی فضائی حدود سے گزرنے پر روک لگا دی گئی ہے۔
امریکی ہوابازی کی وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیموں کے پاس پیشرفتہ اینٹی ایئر كرافٹ میزائل ہیں جس سے شہری طیاروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ بیان میں کہا ہے کہ شام کے باغی اس سے قبل شام کے ایک فوجی طیارے کو اسی قسم کے میزائل سے گرانے میں کامیاب رہے تھے۔
.......
/169