2 اگست 2014 - 10:17
کراچی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ

کراچی میں گزشتہ دنوں کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ کے وہابی دہشتگردوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے شیعہ نوجوان دم توڑ گیا۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق کراچی میں گزشتہ دنوں کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ کے وہابی دہشتگردوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے شیعہ نوجوان دم توڑ گیا۔ مزید تفصیلات کے مطابق کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں مورخہ 22 جولائی کو کریم آباد سونی موبائل مارکیٹ پر نعمان رضا عابدی نامی شیعہ نوجوان کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا تھا جن کا علاج لیاقت نیشنل اسپتال میں جاری رہا۔

لیکن مرضی خدا برحق کے سامنے علاج کچھ کام نہ آیا، اور شیعہ نوجوان نعمان رضا عابدی اپنی قوم کے بزرگوں کی طرح شہادت کے منصب پر فائز ہوگئے۔
واضع رہے کے کراچی شہر میں سپاہ صحابہ کی جانب سے شیعہ نوجوانوں کو ٹارگٹ بنانے کا سلسلہ تیز ہوتا جارہا ہے۔ حکومت اور سکیورٹی ادارے دہشتگردوں کو لگام دینے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
کراچی:شہر قائد ایک بارپھر تشدد کی لپیٹ میں آگیا،چند گھنٹوں میں ٹارگٹ کلنگ اور فائرنگ کے واقعات نے پانچ افراد کی جان لےلی۔۔
ابھی عید کی خوشیاں تھمنےمیں نہیں آئی تھی،کہ دہشتگردوں نے شہر کا امن ایک بار پھر تہہ و بالا کردیا۔۔
لیاری کے علاقے افشانی گلی میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے دوافراد زندگی ہار گئےاورالفلاح روڈ پرفائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔
جس کے بعد لیاری میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا مختلف علاقےفائرنگ اور کریکرکےدھماکوں سے گونج اٹھے،لیاری میں فائرنگ سے تین افراد زخمی بھی ہوگئے۔
قصبہ کالونی میں بھی دہشتگرد کو روکنے والا کوئی نہیں جہاں دو افراد کو ابدی نیند سلا دیا گیا،مقتولین کی شناخت وزیراورغلام نبی کے ناموں سے ہوئی۔
==
عید کے دن صف ماتم، دو شیعہ نوجوان لشکر جھنگوی کے ہاتھوں شہید
مزید اطلاعت کے مطابق 2 روز قبل کربلائے کوئٹہ میں مزید دو شیعہ نوجوانوں کو شہید کردیا گیا۔
علمدار روڈ کے رہائشی نوجوان ذاکر حسین اور سید جواد موٹرسائیکل پر ہزارہ ٹاؤن کی جانب جارہے تھے۔ سبزل روڈ، کلی گشگوری کے نزدیک موٹر سائیکل پر سوار تکفیری دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی۔ جس کی زد میں آکر دونوں نوجوان شدید زخمی ہوگئے۔
بعد ازاں دونوں نوجوانوں کو جب سول ہسپتال منتقل کیا گیا تو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دونوں نوجوان شہید ہوگئے ۔
پولیس نے ضروری کاروائی کے بعد شہداء کے جسد خاکی ورثا کے حوالے کردیئے گئے۔ بعد ازاں سید جواد کے جسد خاکی کو نچاری امام بارگاہ جبکہ شہید ذاکر حسین کے جسد خاکی کو سید آباد امام بارگاہ میں غسل کی غرض سے منتقل کردیا گیا۔ عید کے روز شہداء کے جسد خاکی گھروں میں پہنچنے پر علاقے میں کہرام برپا ہوگیا۔

اس سے پہلے 26 July کو شیعہ رہنماء سلمان مجتبٰی کے بھائی محسن مجتبٰی اپنے بیٹے کے ہمراہ عائشہ منزل کے قریب سے گزر رہے تھے کہ گھات لگائے بیٹھے کالعدم دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ طالبان کے دہشتگردوں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں محسن مجتبٰی محفوظ رہے لیکن ان کے بیٹے مدبر مجتبٰی شدید زخمی ہوئے ۔
مدبر مجتبٰی کو فوری طور پر آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا، آخری اطلاعت کے آنے تک مدبر مجتبٰی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔
شہر قائد میں کالعدم ملک و اسلام دشمن تنظیم سپاہ صحابہ طالبان کا راج ہے جو شیعہ و سنی مسلمانون کو بے ریغ اپنی گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہییں لیکن حکومت سندھ خاص طور پر بزرگ وزیر اعلیٰ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خواب غفلت میں پڑے ہیں۔

.......

/169