ابنا: 1998 کی مردم شماری کے مطابق شمالی وزیرستان کی آبادی تقریباً ساڑھے چار لاکھ تھی۔ اگرچہ شمالی وزیرستان کی موجودہ آبادی کے بارے میں متفقہ رائے یہ ہے کہ اس ایجنسی میں سات سے آٹھ لاکھ افراد بستے ہیں، ایک محتاط اندازے کے تحت یہ کہنا درست ہوگا کہ کم از کم چھ لاکھ افراد شمالی وزیرستان کے رہائشی ہیں۔
ان اعداد و شمار کے مطابق ضربِ عضب ایک لاکھ سے زیادہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہے۔
پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن سے قبل اعلانات کے ذریعے مقامی افراد کو نقلِ مکانی کے لیے کہا تھا۔ ان کے مطابق جو افراد اب بھی شمالی وزیرستان میں موجود ہیں انھیں شدت پسند تصور کیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اب بھی اگر کوئی افراد متاثرہ علاقے میں رہ گئے ہیں تو انھیں حراست میں لیا جائے گا، اس بات کی چھان بین کی جائے گی کہ کیا وہ دہشت گرد ہیں یا پھر عام شہری جو کسی وجہ سے علاقے سے نکل نہیں سکے۔ تفتیش کے بعد ہی بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے گا۔
فوج نے کہا ہے کہ زمینی کارروائی کے دوران پاکستانی فوج کے اہلکار گھر گھر تلاشی کرتے ہوئے کسی کی بے گناہی کا تعین نہیں کر سکتے، اسی لیے وہ تمام مشتبہ افراد کو حراست میں لیں گے، تاہم مختلف ذرائع سے معلومات کی تصدیق کے بعد بے گناہ افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔
.....
/169