ابنا: پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر طالبان ایک ناپسندید کردار کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن کچھ دکانداروں کے لیے وہ پسندیدہ گاہک ہیں۔
رشید الرحمان کا میران شاہ میں جنرل سٹور ہے، جہاں روزانہ ایک لاکھ سے سوا لاکھ روپے مالیت تک کا کاروبار ہوتا تھا۔ لیکن آپریشن کے اعلانات اور حالات کی خرابی نے ان کے کاروبار کو شدید متاثر کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ طالبان زیادہ تر غیر ملکی برانڈ کی پرفیومز کے علاوہ باہر کے باڈی سپرے خریدتے ہیں، خصوصاً تیز خوشبوئیں اور سپرے۔
رشید الرحمان اسلام آباد اور لاہور سے خاص طور پر غیر ملکی اشیا لاتے ہیں۔ بقول ان کے طالبان کو پاکستان کی بنی ہوئی مصنوعات پسند نہیں آتیں۔ صابن میں انھیں امریکی برانڈ کے ساتھ ساتھ باہر کے بنے ہوئے شیمپو پسند ہیں۔
بنوں میں ان دنوں ایک تعمیراتی منصوبے میں مزدوری کرنے والے ایک نوجوان کے مطابق طالبان اس سے 15 سو سے دو ہزار روپے تک کے پرفیوم خریدتے تھے اور یہ کبھی نہیں کہتے کہ فلاں چیز کی قیمت میں کمی کر دو بلکہ وہ منہ مانگی رقم دیتے ہیں۔
.......
/169