ابنا: اجلاس ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے وفد کي قيادت سينئر نائب صدر اسحاق جہانگيري نے کي - گروپ ستتر کي پچاسويں سالگرہ کي مناسبت سے اجلاس سنيچر کي شام بوليويا کے شہر سانتا کروز فکسپوکروز کمپليکس ميں شروع ہوا -
اجلاس ميں شريک مہمانوں کا گروپ ستتر کے موجودہ چئرمين نے خيرمقدم کيا-
اجلاس ميں گروپ کے ممبرملکوں کے سربراہوں اور اعلي حکام کے ساتھ اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل بان کي مون اور اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے سربراہ جان راش بھي شريک ہيں -
گروپ ستترکي گولڈن جبلي کي تقريب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامي جمہوريہ ايران کے سينئرنائب صدر اسحاق جہانگيري نے کہا کہ ترقي پذير ممالک اپنے مشترکہ اہداف کے تلاش ميں بوليويا کے شہر سانتاکروز ميں جمع ہوئے ہيں -
اسحاق جہانگيري نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ ترقي پذير ملکوں کو بھي ترقي و پيشرفت کرنے کا حق حاصل ہے کہاکہ ترقي واتحاد کے لئے انتھک کوشش ايک جائز اور قانوني کوشش ہے -
اسلامي جمہوريہ ايران کےنائب صدر نے گروپ ستتر کے اجلاس ميں تقريرکرتے ہوئے جہاں اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل ، جنرل اسمبلي کے چئرمين ، بوليويا، وينزوئيلا اور اکواڈور کے صدور اور گروپ کے ممبرملکوں کے اعلي حکام موجود تھے کہا کہ مشترکہ اہداف اور ايران اور بوليويا کے حکام کي دوستي دونوں ملکوں کے تعلقات کو پہلے سے بھي زيادہ مستحکم بنائےگي -
ايران کے نائب صدر نے اجلاس سے خطاب کے دوران فلسطين اور شام کے تعلق سے بوليويا کے انقلابي موقف کي تعريف کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے روز اول سے يہ اعلان کررکھا ہے کہ شام کا بحران پرامن طريقےسے ہي حل ہوگا ليکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض مغربي ملکوں نے اس حقيقت پر توجہ نہيں دي اور اسي وجہ سے شام کا بحران شدت اختيار کرگياہے-
گروپ ستتر، اقوام متحدہ ميں ترقي پذير ملکوں کا ايک بڑا گروپ ہے جس کا قيام انيس سو چونسٹھ ميں عمل ميں آيا- ابتدا ميں اس کے ستتر ممالک رکن تھے ليکن اب اس ميں ايک سوبتيس ممالک شامل ہيں ليکن اس کا نام اب بھي گروپ ستتر ہے -
گروپ ستتر ميں شامل ملکوں کا کہنا ہے کہ ترقي يافتہ ممالک نے ترقي پذير ممالک کے قدرتي ذخائر پر قبضہ کرکے اور ان ملکوں کا استحصال اور ماحوليات کو خراب کرکے ہي ترقي حاصل کي ہے-
بنابريں ترقي يافتہ ملکوں کي بالادستي اور تسلط پسندي کو روکنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ترقي پذير ملکوں کا آپسي اتحاد جو گروپ ستتر کي شکل ميں ہے آپسي تعاون کو زيادہ سے زيادہ مستحکم بناسکتا ہے اور نتيجے ميں ترقي يافتہ ملکوں سے ڈٹ کر بات کرنے کا حوصلہ اور جرائت بھي عطا کرسکتا ہے -
گروپ ستتر کا مرکزي دفتر نيورياک ميں اقوام متحدہ کي عمارت ميں ہے -
.......
/169