ابنا: دوپہر بارہ سے دو بجے کے درمیان لندن کے ٹریفیلگر اسكوائرپر سیاہ ٹوپی اور جنپ سوٹ پہنے ہوئے کارکن جمع ہوئے اور انہوں نے اس بدنام زمانہ جیل کے بند کئے جانے اور تمام قیدیوں کے ساتھ انصاف کئے جانے کا مطالبہ کیا۔
کارکنوں کے ہاتھ میں ایسے پلےكارڈ تھے جن پر لکھا تھا گوانتانامو میں ایک اور دن نہیں۔ اس مظاہرے کا اہتمام لندن گوانتانامو كمپین نامی تنظیم نے کیا . اس مظاہرے میں ستر لوگوں نے شرکت کی۔
مظاہرین نے لندن حکومت سے مطالبہ کیا کہ گوانتانامو میں آخری برطانوی قیدی شاکر عامر کی رہائی کے لئے قدم اٹھائے۔
عامر بغیر کسی الزام کے بارہ سال سے گوانتانامو جیل میں ہے ۔ چوواليس سالہ یہ برطانوی شہری اپنی اور ساتھی قیدیوں کی قابل رحم حالت کے خلاف اس وقت بھوک ہڑتال پر ہے ۔
لندن میں یہ مظاہرہ ایسی حالت میں ہوا جب دنیا کے نو ممالک کے چالیس سے زیادہ شہروں میں گوانتانامو جیل بند کرنے کے لئے عالمی اقدامات کے دن کی مناسبت سے مظاہرے ہوئے۔
واضح رہے کہ 23 مئی 2013 کو امریکی صدر باراک اوباما نے اس بدنام زمانہ جیل کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے یہ قبول کیا تھا کہ امریکہ کی طرف سے 2001 میں کیوبا میں اس جیل کا قیام، غیر آئینی ہے۔
.......
/169