30 اپریل 2014 - 08:28
امريکي صدر کا مشرق بعيد کا دورہ، چين کو انتباہ

امريکي صدر اوباما نے منيلا اور بيجنگ کے درميان سمندري تنازعے کے بارے ميں چين کو خبردار کيا ہے-

 

ابنا: امريکي صدر باراک اوباما نے منيلا ميں امريکي اور فلپائني فوجيوں کو خطاب کے دوران بين الاقوامي قوانين اور سمندري حدود ميں آمد ورفت نيزتجارتي قوانين کے احترام کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ علاقائي تنازعات پرامن طريقے سے اور تشدد سے پاک ماحول ميں حل ہونا چاہئے.

فلپائن جنوب مشرقي ايشيا کے ان ملکوں‎ ميں سے ايک ہے جس کا سمندري حدود کے مسئلے پر چين کے ساتھ تنازعہ چل رہا ہے –

واضح رہے کہ بيجنگ جنوبي چين کے سمندرکي حدود کو جہاں تيل و گيس کے ذخائر ہيں اپني ملکيت سمجھتا ہے جبکہ فلپائن نے اس مسئلے پر ہيگ کي عالمي عدالت ميں چين کي شکايت کي ہے.

فلپائن چونکہ فوجي اعتبار سے جنوب مشرقي ايشيا کا کمزور ملک ہے اس لئے اس نے ہميشہ اس سلسلے ميں امريکا سے فوجي مدد مانگي ہے تا کہ وہ چين کے مقابلے ميں ڈٹ سکے.

امريکا اور فلپائن نے ابھي حال ہي ميں ايک فوجي سمجھوتے پر دستخط کئے ہيں-جس ميں منيلا کي حکومت نے امريکا کو اس بات کي اجازت دي ہے کہ وہ مرحلہ وار اپنے فوجيوں کي تعداد ميں اضافہ کرسکتا ہے.

امريکي صدر جاپان جنوبي اور مليشيا کا دورہ کرنے کے بعدفلپائن پہنچے اور وہ منگل کو اپنا دورہ مکمل کرکے واپس واشنگٹن روانہ ہوگئے ہيں.

.......

/169