9 مارچ 2014 - 20:30
اسرائیل حزب اللہ کے خلاف جنگ کا نیا تجربہ نہیں دھرا سکتا

ایران کی مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایسا نہیں لگتا کہ صیہونی حکومت، حزب اللہ کے خلاف جنگ کرنے کا اب کوئی تجربہ کرتے ہوئے ماضی کی غلطی دہرائے گی

ابنا: ایران کی مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایسا نہیں لگتا کہ صیہونی حکومت، حزب اللہ کے خلاف جنگ کرنے کا اب کوئی تجربہ کرتے ہوئے ماضی کی غلطی دہرائے گی اور لبنان کے خلاف کوئی نیا محاذ کھولے گی۔انھوں نے المیادین ٹی وی چینل سے گفتگو میں حزب اللہ لبنان کی دفائی طاقت و توانائی کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا کہ صیہونی حکومت کا اصل مقصد، علاقے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانا ہے لہذا اسلامی ملکوں کا اصل فریضہ علاقے میں استحکام کی بحالی ہونا چاہیئے۔ڈاکٹر لاریجانی نے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کچھ مسائل ایسے ضرور ہیں کہ جن کے بارے میں نظریاتی اختلاف پایا جاتا ہے مگر ان نظریاتی اختلاف کی بناء پر تنازعہ پیدا ہونے کی کوئی منطقی وجہ نہیں پائی جاتی۔ انھوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ عراق پر امریکی قبضے کے بعد ایران نے اس ملک میں مذہبی فتنے کی بھڑکائی جانے والی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی بہت کوشش کی ہے، تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران کا خیال ہے کہ بحرین ہو یا شام، ان ممالک میں بیرونی مداخلت، بالکل غلط ہے۔ ایران کی مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر نے اس نکتے پر زور دیتے ہوئے کہ شام کو ایران کی فوجی حمایت کی ضرورت نہیں ہے، تاکید کے ساتھ کہا کہ شام کے اندرونی مسائل میں صیہونی حکومت کی مداخلت کی صورت میں دمشق اس کا مقابلہ کرنے کی بھرپور توانائی رکھتا ہے۔انھوں نے ایران اور حماس کے تعلقات کو بھی ماضی کی مانند خوشگوار قرار دیا اور کہا کہ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس فلسطنیوں کے حقوق بحال کرانے کی کوششیں کررہی ہے اس رو اسلامی و اخلاقی فریضہ بنتا ہے کہ اس تحریک کی حمایت کی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲