2 مارچ 2014 - 20:30
کیا جھوٹ بول کر کمائے ہوئے پیسے پر خمس ہے؟

Salam aik shakhs watan main faqeeer nahi hay bahar jakar kehta hay main faqir hoon our 1 mahenay main 1 lakh ghar lay ata hay kia aisay maal per khoms wajib hay? Kia aisa maal sara sar haram nahi hay? Kia aisa maal oulad k liay luqma-e-haram shumar nahi ho ga? Kia aisa maal khanay say oulad ki rohaniat main farq nahi paray ga? Our aisay maal say khridi hoi cheez k istimal k baray main bhi batain

ابنا: علیکم السلاموہ پیسہ جو کوئی شخص گدا کر کے کماتا ہے چاہے جھوٹ بول کر سہی اس پر خمس نہیں ہے چونکہ لوگ اسے ہدیہ کے طور پر دیتے ہیں اور ہدیے پر خمس نہیں ہوتا۔ اگر چہ اس شخص کا یہ کام بنفس نفیس غلط اور گناہ ہے اخلاقی لحاظ سے جھوٹ بولنا خود گناہ کبیرہ ہے لیکن یہ مال جو جھوٹ بول کر حاصل کیا ہے حلال ہے چونکہ لوگوں نے اسے ہدیہ دیا ہے اس کی مدد کی ہے اور وہ اسے اپنی اولاد پر خرچ کر سکتا ہے اور اولاد پر اس مال کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور اس سے خریدی ہوئی چیزیں بھی استعمال کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ جھوٹ بولنے کا گناہ، بولنے والے کی گردن پر ہے جس کا اسے قیامت میں جواب دینا ہو گا لیکن اگر دنیا میں توبہ کر لے تو خدا بہترین بخشنے والا ہے معاف کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲