28 جنوری 2014 - 20:30
ایران کے دفتر خارجہ کی ترجمان کا بیان

ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے امریکی صدر بارک اوباما کے اس دعوے پر، کہ جس میں انھوں نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات اور جنیوا کے جوہری سمجھوتے کو تہران پر ڈالے جانے والے دباؤ اور عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے سے تعبیر کرنے کی کوشش کی ہے،

ابنا: ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے امریکی صدر بارک اوباما کے اس دعوے پر، کہ جس میں انھوں نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات اور جنیوا کے جوہری سمجھوتے کو تہران پر ڈالے جانے والے دباؤ اور عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے سے تعبیر کرنے کی کوشش کی ہے، ایران کے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کا بیان، ایرانی عوام کے ساتھ ديگر قسم کے رابطوں کی برقراری کیلئے مغربی ملکوں کیلئے میسر ہونے والے مواقع سے متعلق تہران کی دلچسپی کی غلط تشریح کے مترادف ہے۔ ایران کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور تمام مغربی ملکوں کو چاہیئے کہ ایران کی عظیم قوم کے اعتماد کے حصول کیلئے میّسر ہونے والے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں ورنہ ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے دشمن اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے وہ ہر طرح کے دباؤ اور ہتھکنڈوں کے استعمال کے باوجود کبھی اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ تہران، جنیوا سمجھوتے پر کاربند ہے اور مقابل فریق خاصطور سے امریکہ کی جانب سے سمجھوتے کی پابندی، سیاسی ارادے اور نیک نیتی کا مظاہرہ کیا گیا تو یقینا مختصر مدت میں ایک جامع راہ حل کا حصول ممکن ہوجائیگا۔

.......

/169