2 ستمبر 2026 - 16:30
ٹرمپ کے مشیر گھبرا گئے، ایران جنگ مزید بھڑکانے سے روکنے کی دوڑ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ مشیر ایران کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگ کے سیاسی اثرات پر بھی  چار باخبر ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ کے مشیر محکمہ جنگ پر زور دے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ فوجی تنازع کو مزید شدت نہ دی جائے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ مشیر ایران کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگ کے سیاسی اثرات پر بھی  چار باخبر ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ کے مشیر محکمہ جنگ پر زور دے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ فوجی تنازع کو مزید شدت نہ دی جائے۔ ذرائع کے مطابق مقصد یہ ہے کہ جنگ سے پیدا ہونے والی عوامی ناراضی ری پبلکن پارٹی کے انتخابی امکانات کو متاثر نہ کرے۔

رائٹرز کے مطابق جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے اور امریکی حکومت کو سیاسی و عسکری مشکلات کا سامنا ہے۔ تازہ سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت 40 فیصد سے کم ہو کر 33 فیصد رہ گئی، جبکہ صرف 31 فیصد امریکی ایران کے ساتھ جنگ کی حمایت کرتے ہیں اور 63 فیصد اس کے مخالف ہیں۔ ایندھن کی بڑھتی قیمتیں بھی عوامی ناراضی کی ایک بڑی وجہ بتائی گئی ہیں۔

دوسری جانب امریکی فوج کو ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کا بھی سامنا ہے۔ امریکی فوجی کمانڈروں نے دفاعی حکام کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ انداز میں جنگ جاری رکھنا طویل مدت تک قابلِ عمل نہیں اور اس سے دنیا کے دیگر علاقوں میں امریکی فوج کی تیاری متاثر ہوسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس اب فوجی کارروائیوں کو بڑھانے کے بجائے ایران پر اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کو مزید سخت کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ امریکی حکام کا مقصد ایران کو آئندہ مذاکرات میں رعایت دینے پر مجبور کرنا بتایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت بعض اہم حکام نومبر کے انتخابات تک جنگ کو کم شدت کی سطح پر رکھنے کی حکمت عملی کے حامی ہیں۔

تاہم رائٹرز کا کہنا ہے کہ کشیدگی کم رکھنا آسان نہیں، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ ایران کی جانب سے بھی خطے میں امریکی اہداف پر میزائل حملوں کے بعد صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین سمیت بعض ممالک کی نئی امریکی پابندیوں کی مہم میں عدم شرکت نے واشنگٹن کے اقتصادی دباؤ کی کامیابی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ادھر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی صورت میں امریکا مزید شدید حملے کرے گا، جس سے کشیدگی کم رکھنے کی حکمت عملی بدستور غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha