ابنا: سرکردہ امریکی تجزیہ نگار اور ‘‘یونائٹیڈ نیشنل اینٹیوار کمیٹی’’ کے لیڈر جو لوسبیکر نے کہا ہے کہ ایران ایک خود مختار ملک ہونے کے باعث امریکی پابندیوں کا شکار ہورہا ہے۔موصوف تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے پانچ ممبران اور جرمنی کی ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے عبوری معاہدہ کے باوجود امریکی سنیٹ کے بعض تنگ نظر ممبران ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا بل پیش کرنے کا منصوبہ بنا کر یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اس بل سے ایرانی ایٹمی پروگرام کے حل کی راہ تلاش کی جاسکتی ہے۔اپنے بیان میں لوسبیکر نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں کا ایرانی جوہری پروگرام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان پابندیوں سے ایٹمی معاملے کا مؤثر حل تلاش کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ سب ایران کو امریکی استعمارانہ پالسیوں سے آزاد ہونے کا نتیجہ ہے اور ایرانی عوام اسی خود مختاری کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ایران کی اس خود مختاری کا معنی یہ ہے کہ ایران جیسا ترقی یافتہ ملک امریکہ کے لئے ایک چلینج ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اوبامہ انتظامیہ جس نے ایران پر سخت ترین پابندیاں عائد کیں صن،بوب مننڈز اور مارک کرک کی پیش کردہ نئی بل کی زبردست مخالفت کررہی ہے۔لوس بیکیر نے کہا کہ شام پر حملہ کرنے پر ناکام ہونے کی صورت میں اوبامہ ایران کے ساتھ مذاکرات میز پر بیٹھنے میں مجبور ہوا تھا فوجی کارواری نہ کرنے کی وجہ سے اوبامہ اس قدر علحٰیدہ پڑ گیا کہ اس کو سفارتی حل کے اقدام اٹھانے پڑے۔واضح رہے کہ ایران مخالف بل کو اب تک امریکہ کے 58 سنیٹروں کی حمایت حاصل ہے تاہم سنیٹ کے اہم ارکان اس بل کے حق میں نہیں ہیں نیز ایران میں 1979 میں اسلامی انقلاب کے آغاز سے امریکہ اقتصادی پابندیاں عائد کرکے ایرانی قوم کو اپنا غلام بنانے کی مذموم سازشیں کررہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
23 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 499689
سرکردہ امریکی تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ ایران ایک خود مختار ملک ہونے کا خمیازہ بھگت رہاہے۔