ابنا: رپورٹ کے مطابق ایران کے ایک کہنہ مشق سیاسی تجزیہ نگار اور کالم نویس عامر مہر اپنے ایک تازہ مضمون میں سعودی عرب کی غیر دانشمندانہ اوراسلام مخالف پالسیوں کے اسلامی دنیا پر پڑرہے منفی اور مضر اثرات اور خود سعودی پر اُن کے برآمد ہونے والے نتائج کی عکاسی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سعودی عرب کی غیر دانشمندانہ پالسیوں سے مشرق وسطیٰ میں اُگ رہے فصل کے ثمر سے مغربی دنیا فیض یاب ہورہی ہے۔
موصوف کالم نویس لکھتے ہیں کہ سعوری حمایت یافتہ دہشتگرد شام اور عراق میں کشت وخون کا بازار گرم کرکے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہارہے ہیں۔اور سعودی عرب ان دہشت گردوں کی تباہ کاریوں کو حق بجانب قرار دیکر خطے کے عدم استحکام اور سٹیٹ دہشتگردی کو یقینی بنا رہے ہیں۔
خطے میں تشدد اور دہشتگردی کے بازار کو گرم کرکے سعودی عرب ایک ایسے منصوبے کو عملا رہا ہے جو عالم امن و تحفظ کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے امریکہ جو دہائیوں سے سعودی عرب کا مستقل ساتھی رہا ہے بھی اب تذبذب میں ہے۔
عامرمہر لکھتے ہیں کہ ایسالگتا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کی ان پالسیوں کے نتائج روس تک پھیل چکے ہیں لہٰذا ان پالسیوں پر نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
لندن میں سعودی سفیر محمد ابن نواف کے 17 دسمبر 2013 کو ‘‘نیو یارک ٹائمز’’ میں چھپے ایک مضمون کا تنقیدی جائزہ کرتے ہوئے عامر مہر رقمطراز ہیں کہ مذکورہ سفیر نے خطے کے تشدد میں سعودی عرب کی ببانگ دہل مداخلت سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے بشارالاسد اور ایران پر انگلی اُٹھائی ہے لیکن شاید شہزادہ ابن نواف اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ خطے کے تشدد اور فرقہ وارانہ فسادات کے پیچھے سعودی ہاتھ کار فرما ہونے اور سعودی کا عالم امن اور تحفظ کےلئے اس وقت سب سے بڑا خطرہ ہونے کے ٹھوس شواہد اور دلائل منظرعام پر آچکے ہیں۔
عامرمہر اس مضمون کے حوالے سے مزید لکھتے ہیں کہ سعودی عرب جب عراق میں صدام حسین کا تختہ پلٹنے کے بعد اپنی من پسند حکومت قائم کرنے میں ناکام ہوا تو اس نے وہاں شیعہ آبادی والے مقدس شہروں میں شیعوں کو دھماکوں کے ذریعے مارنے کا سلسلہ جاری کیا تاکہ نور المالکی کی حکومت کمزور ہوجائے اور دمشق میں بھی وہ اسی پالسی کو اپنا رہے ہیں۔
سعودی حکام اس بات سے پوری طرح واقف ہیں کہ جب بھی کہیں دہشتگردی کی جڑوں اور مشرق وسطیٰ کے تشدد کا ذکر آتا ہے تو انگلیاں ریاض پر اٹھتی ہیں خطے میں دہشتگردی کا حامی ہونا سعودی کے لئے شرم کی بات ہے۔
آل سعود اور اسلامی اقدار کاکوئی تعلق ہی نہیں ہے کیونکہ آل سعود کے شہزادے عیاش، دولتمند اور مغربی دامشگاہوں کے فارغ التحصیل ہوتے ہیں لہٰذا وہ اسلامی اقدار سے بے بہرہ ہیں غربت اور بدعنوانیوں کی روک تھام کے لئے کوئی سعی نہیں کرتے ہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آل سعود کی امیج روز بروز بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ آل سعود لاکھوں ڈالر دہشتگردی کے دوام کے لئے صرف کر رہے ہیں اگر وہ ان ڈالروں کو مسلمانوں کی فلاح کیلئے خرچ کرتے تو شاید ان کا وقار ختم ہونے سے بچ جاتا۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر سعودی عرب چاہئے تو شام اورعراق میں تشدد کا طوفان تھم سکتا ہے اور خود ان کی بھی حکومت مستحکم ہوسکتی ہے قران کا واضح اعلان ہے کہ جوحکومت طاقت اور دولت کی بنیادو پر کھڑی ہو زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔
لہٰذا ضرورت ہے کہ سعودی عرب اپنے ملک میں ایک اسلامی کانفرنس کا انعقاد کرے جہاں تمام اسلامی ممالک کےاسلامی دانشور موجود ہوں اور وہ آل سعود کے لئے اسلامی بنیادوں پر ایک لائحہ عمل مرتب کریں تاکہ سعودی حکومت کی مدت حیات میں توسیع ہوسکے۔
.......
/169