25 دسمبر 2013 - 20:30
غزہ پر اسرائیل کا حملہ

صہیونی فوجیوں نے فلسطینیوں کے خلاف اپنی جارحیت جاری رکھتے ہوئے ایک بار پھر غزہ پٹی کو زبردست فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے.

ابنا: فلسطین کی منتخب حکومت کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے جنگی طیاروں نے کل منگل کے دن غزہ شہر کے مختلف علاقوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید ہوگئے جس میں ایک چار برس کا بچہ شامل ہے ۔غزہ پر فضائی حملے میں اس چار برس کے بچے کی بہن اور ماں سمیت کم ازکم دس فلسطینی زخمی ہوگئے ۔ اسرائیل کے ٹینکوں نے بھی غزہ کے مشرقی علاقے کی طرف پیش قدمی کی ہے ۔فلسطینی مجاہدین نے صہیونی جارحیت کے اس جواب میں  فوجی چھاؤنی ناحل عوز کے نزدیک ایک صیہونی فوجی پر حملہ کرکے  اسے ہلاک کردیا ۔سرائیل نے غزہ پر ایسے وقت حملہ کیا ہے کہ اسرائیل کے صدر شیمون پرز نے منگل کے دن فلسطینی مجاہدین کو سرکوب کرنے کے لئے شدید فضائی حملوں کو جاری رکھنے کی تاکید کی ہے ۔ شیمون پرز نے غزہ کے شدید محاصرے پرتاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے لوگ  بیرونی مدد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ۔ اسرائیل کے وزیر جنگ موشہ یعالون نے بھی غزہ پر اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملے کے بعد تجارتی گذرگاہ  کرم ابو سالم کو بند کرنے کا حکم دیا ہے ۔ غزہ پر اسرائیل کے حملے کے بعد فلسطین کی خودمختار انتظامیہ ،غزہ  کی منتخب حکومت سمیت حماس ، تحریک فتح ،جہاد اسلامی اور فلسطین کی دیگر استقامتی تنظیموں نے  الگ الگ بیان جاری کرکے اسرائیل کے فضائی حملے کی مذمت کی ہے اور اسے ان مظالم کا ذمہ دار ٹھہرايا ہے ۔فلسطین کی منتخب حکومت کے ترجمان ایہاب غصین نے تاکید کی ہے کہ عالمی برادری کو اس بارے میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرکے فلسطینیوں کے خلاف  صیہونی حکومت کی جارحیت کی روک تھام اور اسرائیل کے مجرمین پر مقدمہ چلاناچا ہئیے ۔ایہاب غصین نے کہاہے کہ  فلسطین کی استقامت صیہونی حکومت کی ہرجارحیت کا جواب دینے کے لئے تیار ہے اور داخلی محاذ بھی استقامت کی حمایت کرےگا ۔اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے غزہ پر اسرائیل کے جنگی طیاروں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے یہ حملہ تیسرے انتفاضہ کے وجود میں آنے کے ڈر اورخوف سے کیا ہے ۔ مرضیہ افخم نے بین الاقوامی اداروں خاص طور پر اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈال کر غزہ پر ہونے والے حملوں کو روک دیں ۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی غزہ پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو روکنے کی ضرورت اور جنگ بندی پر تاکید کی ہے ۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نسیرکی نے کہا ہے کہ نومبر دوہزار بارہ میں ہونے والی جنگ کی پابندی کا خیال رکھا جائے تاکہ اس علاقے میں امن قائم رہ سکے ۔نومبر دوہزاربارہ  کی آٹھ روزہ جنگ میں ایک 190 فلسطینی شہید اور چودہ سو زخمی ہوگئے تھے ۔ صہیونی ریاست نے فلسطین کی منتخب حکومت کو گرانے اور استقامت کو سرکوب کرنے کے لئے دوہزار سات سے غزہ کا شدید محاصرہ کررکھا ہے ۔.......

/169