ابنا: محمد فرا، نے غزہ میں بجلی منقطع ہونےاور پانی ریفائن کرنے کی مشینوں کے لئے ایندھن دستیاب نہ ہونے کے باعث پینے کے پانی کی ناگفتہ بہ صورت حال کی جانب اشارا کرتے ہوئے کہا کہ اب فلسطینی شہریوں کے گھروں میں آلودہ اور خراب پانی کی سپلائی کا امکان بڑھتا جارہاہے۔ غزہ میں فلسطین کی قانونی حکومت کی بلدیاتی کونسلوں کے امور کے وزیر محمد فرا، نے اس علاقہ میں انسانی المیہ وجود میں آنے سے روکنے کے لئے ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے اس وزارت خانے کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اور ماحولیات زندگی کے امور کے ذمہ داروں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ غزہ کی صورت حال ریڈ لائن تک پہنچ گئی ہے۔ دریں اثنا فلسطینی تحریک حماس کے سینیر رہنما یحیی موسی نے کہا ہے کہ غزہ میں بجلی کے بحران کی ذمہ دار فلسطینی انتظامیہ ہے اس لئے کہ فلسطینی انتظامیہ ہی ایندھن کے ٹیکس کی معافی کے انکار کے ذریعہ اس علاقے میں بجلی کا بحران پیداہونےکا باعث بنی ہے۔غزہ میں بجلی کا بحران ،ایندھن کے فقدان اور غزہ کا بجلی گھر بند ہونے کے سبب نومبر ماہ کے آغاز سے پیدا ہوا ہے ۔دراصل مصر کے صدر محمد مرسی کی اقتدار سے برطرفی کے وقت سے مصری فوج نے غزہ میں ایندھن کی ترسیل میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کردیں اور یہی امر اس علاقہ میں بجلی اور پینے کے پانی کے بحران کا باعث بنا ہے ۔غزہ کا علاقہ دوہزار سات سے صہیونی ریاست کے محاصرے میں ہے اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملے آب رسانی کے مراکز اور بجلی گھروں کی تباہی کا باعث بنے اور نتیجہ یہ ہوا کہ غزہ کا علاقہ بجلی اور پانی کے بحرا ن کا شکار ہو گیا۔غزہ کا علاقہ ہر سال موسم سرما میں ایندھن کے بحران سے دوچار رہتاہے ۔اور اس کے سبب بجلی اور پانی کی سپلائی کے مراکز مشکلات سے دوچار ہوجاتے ہیں اور یہی امر ہسپتالوں کو دشواریاں پیش آنے کا باعث بنتاہے ۔فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ شدید ترین محاصرے کے دور سے گزر رہاہے ۔اور صہیونی ریاست فلسطینیوں کی ضروریات کی اشیاء کی فراہمی کے سارے راستے بند کرنے کے درپے ہے قابل ذکر ہےکہ غزہ کا علاقہ تین سو پینسٹھ کیلو میٹر مربع علاقے میں پھیلا ہوا ہے اور غزہ میں پندرہ لاکھ کی گنجان آبادی ہے ۔
.......
/169