ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ایران کی سر زمین میں 20 فیصد یورینیم کی افزودگی کے عمل میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ ریڈیو تہران کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے آج پیری ٹوریا میں جنوبی افریقہ کے وزیر خارجہ " نکو آنا مشابانہ" کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات پر تاکید کے ساتھ کہ ایران آئی اے ای اے کی نگرانی میں 20 فیصد یورینیم کی افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے کہا کہ ایران غلط فہمیوں کو دور اور نیک نیتی ثابت کرنے کے لئے گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کر رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اس موقع پر تاکید کی کہ مشکلات کے حل میں وقت لگے گا اور ایران نے بھی بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ ایٹم بم کے درپے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کی ایرانی اسٹریٹجیک پالیسی میں کوئی جگہ نہیں ہے اور جوہری ہتھیاروں سے قوموں کی تباہی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا۔ جواد ظریف نے شام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جنیوا ٹو کانفرنس کے بارے میں کہا کہ ایران دعوت ملنے کی صورت میں اس کانفرنس میں شرکت کرے گا تاکہ شام کے بحران کے حل میں مدد کر سکے اور اس کانفرنس میں شام کی عوام کے مستقبل کے بارے میں کسی اور کے فیصلہ کو مسلط کرنے کی سازش کو بھی ناکام بنایا جا سکے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ شام کے بحران کا تنہا راہ حل مذاکرات ہیں اور اس بحران کا حل طاقت کا استعمال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑا رہا ہے کہ بعض ممالک شام میں القاعدہ گرہوں کو مسلح کر رہے ہیں اور یہ ایک غیر قانونی عمل ہے۔ ہم سب کو ملکر انتہا پسندی کے خلاف جد و جہد کرنی چاہئے تاکہ علاقے کی سرحدوں سے تشدد ختم کیا جا سکے۔اس موقع پر جنوبی افریقہ کے وزیر خارجہ نے بھی اس امر پر تاکید کے ساتھ کہ ان کا ملک ایران کے خلاف لگائی جانے والی پابندیوں کے خلاف سلامتی کونسل سے درخواست کرے گا، کہا کہ ایران کے جوہری حقوق کا احترام کیا جانا چاہئے اور اس کے خلاف لگائی گئی یکطرفہ پابندیاں اٹھا لی جانی چاہئیں۔واضح رہے کہ ایران اور جنوبی افریقہ کے اقتصادی کمیشن کا گیارہواں مشترکہ کمیشن کا اجلاس اس کمیشن کے اختتامی بیانیہ پر دستخط کے ساتھ آج جنوبی افریقہ کے دارالحکومت پیر ساٹوریا میں اختتام پذیر ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
30 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 477226
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ایران کی سر زمین میں 20 فیصد یورینیم کی افزودگی کے عمل میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔