اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لبنان کے سیاسی دھڑے آل سعود کے ساتھ براہ راست سیاسی اور ابلاغی تنازعے میں آمنا سامنا نہیں کرنا چاہتے جس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ سعودی عرب سنی کہلوانے والے سیکولر گروپوں میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ حتی کہ حزب اللہ اور سید حسن نصر اللہ بھی کل تک اس مسئلے کو ملحوظ رکھتے تھے اور اس کا سبب بھی یہ تھا کہ لبنان میں کوئی بھی ایسا موقف نہ اپنایا جائے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے اتحاد کو نقصان پہنچے۔ لیکن سید حسن نصر اللہ نے نہایت فصاحت اور مختصر سے طنزیہ لہجے میں خاندان آل سعود سے مخاطب ہوکر اس پر تنقید کی جس کی وجہ یہ ہے کہ آل سعود کی حکومت خطے میں تمام سرخ لکیروں سے عبور کرچکی ہے، مسلمانوں کا بے تحاشا خون بہا رہی ہے اور اسلامی فکر کو پامال کرچکی ہے۔ بے شک حزب اللہ کے انٹیلجنس ونگ کے پاس خطے میں سعودیوں کے تخریبکارانہ کردار کے سلسلے میں بڑی مقدار میں شواہد اور دستاویزات موجود ہیں گوکہ سعودی کردار کے لئے شواہد کی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ اس کا کردار اظہر من الشمس ہے اور سید نے برسوں صبر و تحمل کے بعد مجبور ہو کر آل سعود کے کردار پر انگلی اٹھائی ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے سعودی کردار کے بارے میں کسی نئی بات کا انکشاف نہيں کیا بلکہ ان حقائق پر تاکید کی۔ یہ وہ حقائق تھے جن کا تجزیہ سیدحسن نصر اللہ کی مانند کسی شخصیت کے زبان سے عالم عرب کی رائے عامہ کے لئے بیان ہونا چاہئے تھا۔ گوکہ حکومت شام نے آل سعود پر بار بار تنقید کی ہے لیکن چونکہ سعودی حکومت لبنان کو اپنے لئے پرامن ٹھکانہ سمجھتی ہے اور اسکا خیال ہے کہ اس ملک میں اس پر تنقید نہيں کی جاتی۔ سید حسن نصر اللہ کا خطاب سننے کے لئے بڑی تعداد میں لبنان کی سیاسی اور سماجی شخصیات جمع ہوئی تھیں جنہوں نے ان کا موقف سنا اور اس میں شک نہیں ہے کہ یہ خطاب اور لبنانی راہنماؤں کی موجودگی لبنان کے سیاسی مستقبل میں اہم کردار ادا کرے گی اور وہ زیادہ کھرے اور کھلے انداز سے آل سعود سے مخاطب ہوسکیں گے۔ سعودی فتنہ انگیزیوں کے خلاف سید حسن نصر اللہ کا واضح موقف در حقیقت بعض ان فریقوں کے لئے ایک پیغام تھا جن کا ملک دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے اور ان لوگوں نے ایک بار بھی سعودی عرب پر تنقید نہیں کی ہے۔ دوسری طرف سے لگتا ہے اس بات کا اعلان ہوچکا ہے کہ سعودی عرب نے اسد حکومت کے خاتمے کے لئے 30 ارب ڈالر خرچ کئے ہیں لیکن وہ ناکام ہوچکا ہے اور ظاہر ہے کہ سعودیوں کی شکست درحقیقت خون کے محاذ کی فتح ہے۔ چنانچہ بآسانی ادراک کیا جاسکتا ہے کہ علاقے میں نئی مسابقتوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ شام میں آل سعود کی شکست لبنان میں ان کی شکست کی تمہید ہے۔ سید حسن نصر اللہ کے خطاب کو مدنظر رکھا جائے تو واشنگٹن ـ تہران تعلقات کے معمول پر آنے کی صورت میں سعودیوں کو مزید ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی واضح مثال عراق ہے۔ چنانچہ کہنا چاہئے کہ آل سعود کے تخریبکارانہ کردار پر سید حسن نصر اللہ کی تنقید اور آل سعود سے ان کا براہ راست خطاب، خطے میں محاذ مزاحمت کی قطعی کامیابی اور فتح کی علامت ہے جس کی قیمت گو کہ بہت زیادہ تھا لیکن بالآخر حاصل ہوگی چنانچہ ریاض کو اپنی روش پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے یا پھر اس کو نہایت برے دنوں کی توقع رکھنی چاہئے گوکہ مکافات عمل کا قاعدہ موجود ہے اور خون کے دریا بہانا اور لوگوں کے گھروں اور عبادتگاہوں کو منہدم کرنا اور پورے ملکوں کو تباہ کرنا، وہ اعمال ہیں جو اپنے مرتکبین کا دامن ضرور پکڑتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
سید حسن نصر اللہ کا خطاب
سیدحسن نصراللہ کا آل سعود کو مشورہ:
حقائق مان لو شام کی شکست کی توقع نہ رکھو/ سعودی عرب سیخ پا ہےclick
سعودیوں کی حلیف غاصب یہودی ریاست کے اعترافات بھی دیکھ لیجئے: