18 اکتوبر 2013 - 20:30
نوم چومسکی کو بھی امریکی جاسوسی پروگرام میں ہدف بنایا گیا

امریکہ نے اپنے بدنام زمانہ جاسوسی پروگرام پرزم میں نہ صرف اپنے شہریوں اور دنیا بھر کے ممالک کے حکام کو ہدف قرار دیا ہے بلکہ دانشوروں اور صحافیوں کی بھی جاسوسی کی ہے۔

ابنا: ذرائع کے مطابق، امریکی خفیہ اداروں سی آئی اے اور این ایس اے نے عالمی شہرت رکھنے والے مفکر نوم چومسکی کی بھی جاسوسی کی ہے۔نوم چومسکی دنیا بھر میں امریکی مظالم کا پردہ چاک کرنے والے مفکر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔نوم چومسکی امریکہ کے مشہور تعلیمی ادارے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پڑھاتے رہے ہیں۔غور طلب ہے کہ سابق امریکی جاسوس ایڈروڈ اسنوڈن نے رواں سال میں یہ معلومات افشاں کی تھیں کہ این ایس اے سمیت امریکی خفیہ ادارے امریکی شہریوں اور دیگر ممالک کے حکام کی بڑے پیمانے پر جاسوسی میں مصروف ہیں۔اسنوڈن کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے عدالتی احکامات کی عدم موجودگی کے باوجود امریکی حکومت بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ پر ہونے والی سرگرمیوں اور ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کا خفیہ طور پر ریکارڈ جمع کر رہی تھی۔......./169