پيغمبر اكرم(ص) نے اميرالمؤمنين ' على (ع) ' سے فاطمہ (س) كى شادى كردي_ (9) حقيقت تو يہ ہے كہ يہ خوشگوار رشتہ انہيں كے لائق تھا_ اس لئے كہ معصومين (ع) كى تصريح كے مطابق حضرت على (ع) كے علاوہ كوئي بھى فاطمہ (س) كا كفو اور ہمسر نہيں ہوسكتاتھا_اس شادى كى خصوصيتوں ميں سے يہ بات بھى ہے جو ان دونوں بزرگ ہستيوں كى بلند منزلت كا ثبوت ہے كہ پيغمبراكرم (ص) نے قريش كے صاحب نام افراد، بڑى شخصيتوں اور ثروت مندوں كى خواستگارى كوقبول نہيں كيا آپ(ص) فرماتے تھے كہ فاطمہ (س) كى شادى كا مسئلہ حكم خدا سے متعلق ہے _ (10)رسول (ص) خدا نے فاطمہ زہراء س كو على (ع) كے لئے روكے ركھا تھا اورآپ(ص) خدا كى طرف سے مامور تھے كہ نور كونور سے ملا ديں_ (11)اسى وجہ سے جب حضرت على (ع) نے رشتہ مانگا توپيغمبراكرم (ص) نے قبول فرمايا اور كہا: ' تمہارے آنے سے پہلے فرشتہ الہى نے مجھے حكم خد اپہنچايا ہے كہ فاطمہ (س) كى شادى على (ع) سے كردو' (12)رسول اكرم(ص) نے جناب فاطمہ(ع) كى رضايت لينے كے بعدحضرت على (ع) سے پوچھا كہ شادى كرنے كے لئے تمہارے پاس كيا ہے ؟ آپ (ع) نے عرض كيا : ' ايك ذرّہ ، ايك شمشير اور پانى لانے كے لئے ايك شتر كے علاوہ ميرے پاس اور كچھ نہيں ہے _ ' على (ع) نے پيغمبر (ص) كے حكم كے مطابق ذرہ بيچ دى اور اس كى قيمت سے ، جو تقريباً پانچ سودرہم تھي، جہيز كا معمولى سامان خريدا گيا ، ضيافت بھى ہوئي اور مسلمانوں كوكھانا بھى كھلايا گيا _ مسرت و شادمانى اور دعائے پيغمبر(ص) كے ساتھ فاطمہ س كو على (ع) كے گھر لے جايا گيا _ (13)
.......
/169