29 ستمبر 2013 - 20:30
شام میں حکومت کی تبدیلی امریکہ کا اصلی ہدف

امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر کا کہنا ہے کہ وہائٹ ہاؤس شام کے صدر بشار اسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتا تھا اور چاہتا ہے۔

ابنا: سی این این کے معروف صحافی فرید زکریا کے ساتھ بات کرتے ہوئے سوسن رائس نے کہا کہ امریکہ کی پالیسی بہت ہی واضح رہی ہے۔ اور وہ یہ کہ اسد کو چلے جانا چاہیئے۔

امریکی قومی سلامتی کی مشیر نے کہا کہ اسد نے اپنے ملک میں ایسا خوفناک تشدد کیا ہے کہ جس نے پورے علاقے کو متاثر کیا ہے۔ اس لیے ہمیں یقین ہے کہ بشار الاسد کی حکمرانی میں شام کا کوئی اطمینان بخش مستقبل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے یہ رد عمل اس سوال کے جواب میں ظاہر کیا کہ جس میں ان سے پوچھا گيا تھا کہ کس طرح واشنگٹن ایک ہی وقت میں کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے میں صدر بشار اسد کے ساتھ تعاون کرے گا اور اسی کے ساتھ انہیں اقتدار سے الگ کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔

رائس نے مزید کہا کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد صرف اسد کی حکومت تک محدود نہیں ہے۔

قرارداد میں صرف بشار الاسد کی حکومت سے خطاب نہیں ہے، بلکہ اس میں شامی حکومت کی اخلاقی ذمہ داریوں کو واضح کیا گيا ہے۔ اور یہ بہت اہم بات ہے کہ مستقبل قریب میں یا مستقبل میں شام میں کوئی بھی حکومت ہو اسے بھی ان ذمہ داریوں کو پورا کرنا ضروری ہوگا۔ اس لیے یہ صرف اسد سے مخصوص نہیں ہے۔

رائس نے دمشق کی جانب سے قرارداد پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں شام پر یکطرفہ حملے کی دھمکی بھی دی۔

امریکی قومی سلامتی مشیر کا یہ بیان ایسے وقت میں آيا ہے کہ جب روس اور امریکہ کی تجویز پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کا دمشق نے خیر مقدم کیا تھا، اور اس قرارداد کے پاس ہونے پہلے ہی اس نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق دستاویزات متعلقہ بین الاقوامی ادارے کو سونپ دیے تھے۔

.......

/169