ابنا: انہوں نے منگل کے روز عراق کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اسامہ نجیفی سے تہران میں مذاکرات کے دوران علاقے کی حساس صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطی میں امن اور استحکام کی بازگشت کے لئے دینی اور فرقہ وارنہ اختلافات پیدا کرنے کے لئے غیر ملکیوں کی سازشوں کے مقابلے میں ان کے درمیان تعاون اور اتحاد کی ضرورت ہے۔صدر مملکت نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تسلط پسند طاقتیں علاقے پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لئے ہمیشہ اختلافات کو ہوا دیتی ہیں، کہا کہ یہ طاقتیں ہمیشہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں جبکہ متعدد مذاہب کے پیروکار ہمیشہ سے اس علاقے میں مکمل بھائی چارے کے ساتھ زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔انہوں نے شام کے بحران کے جاری رہنے کو پورے علاقے کے لئے خطرناک بتایا اور اس ملک میں ہر طرح کی فوجی مداخلت کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس جنگ کو روکنے کے لئے علاقے میں کی جانے والی کوششیں جاری رہے گیں۔ صدر مملکت نے اسی طرح عراق کے ساتھ مختلف میدانوں میں تعاون کے فروغ پر آمادگی کا اظہار کیا۔اس ملاقات میں عراق کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اسامہ نجیفی نے بھی ایران اور عراق کے تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے علاقائی بحرانوں کے حل اور علاقے میں امن کے قیام کے لئے ایران کی کوششوں کو سراہا۔......./169
17 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 464402
صدر مملکت ڈاکٹر حسن ورحانی نے غیر ملکیوں کی سازشوں کے سامنے علاقائی ملکوں کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔