ابنا: مظاہرین نے شام پر امریکہ کےفوجی حملےکےلئے انجام دیئے جانے والے اقدامات کاسلسلہ روکنے کامطالبہ کیا۔وہائٹ ہاؤس کا دعوی ہے کہ اکیس اگست کو مشرقی دمشق پر ہونے والے کیمیاوی حملے میں حکومت شام کا ہاتھ ہے اور اسی بنا پر وہ اس ملک پرحملے کی زمین ہموارکررہا ہے۔امریکی صدر اوبامہ اور ان کےمشیروں کے اس دعوے کےبرخلاف رائے عامہ شام پر ہرطرح کےحملے کےخلاف ہے ۔گذشتہ دنوں انجام پانےوالے سروے سےثابت ہوتا ہے کہ ہردس امریکیوں میں سے چھہ امریکی اس طرح کےاقدام کےخلاف ہيں۔جبکہ بارہ سال پہلے تقریبا دوتہائی امریکی عوام افغانستان پرحملے کی حمایت کر رہے تھےاور عراق جنگ میں بھی امریکی حکومت کو پچاس فیصد سےزیادہ امریکیوں کی حمایت حاصل تھی البتہ دونوں جنگ امریکی معاشرے میں نفرت پرمنتج ہوئی یہاں تک کہ اس وقت کی ریپبلکن پارٹی کی حکومت کو افغانستان اورعراق میں جنگ شروع کرنے کےجرم میں وہائٹ ہاؤس سےاپنا بوریا بستر سمیٹنا پڑا۔اس وقت ڈیموکریٹ پارٹی اورخودامریکی صدر ایسےعالم میں شام پرحملے کی تیاری کررہے ہيں کہ جنگ مخالف مظاہرے شروع ہوچکے ہيں اوراس وقت جنگ مخالف تنظیموں کےفعال ہونے کی وجہ خود اکیس اگست کے اصلی واقعے کے سلسلے میں شک وشبہ پایا جانا اور ہرطرح کےفوجی اقدام سے بے انتہاخستگی ہے۔ سروے رپورٹوں سےپتہ چلتا ہے کہ ابھی امریکی عوام کی بڑی تعداد مشرقی دمشق میں ہونے والے کیمیاوی حملے میں حکومت شام کےملوث ہونے کےبارے میں پایےجانے والے شکوک و شبہات ہیں اور اکثر امریکی تنظیموں اورگروہوں کا خیال ہے کہ اگر یہ مفروضہ ثابت بھی ہو جائے تو بھی امریکہ کو بین الاقوامی پولیس کی طرح میدان میں نہيں کودنا چاہئے۔ اس گروہ کی نگاہ میں شام میں جوکچہ ہورہا ہے وہ صرف جنگی جرائم اور ممنوعہ ہتھیاروں کااستعمال نہيں ہے اور اگر وہائٹ ہاؤس خود کو اس کے مقابلے کا پابند سمجھتا ہے تو اسے اس جیسے دوسرے واقعات کےخلاف بھی اقدام کرناچاہئے۔جبکہ بنیادی طور پر شام میں جنگ امریکی سرزمین، شہریوں یا امریکی مفادات پر حملے سےتعبیرنہيں کی جاسکتی کہ جس کا مقابلہ کرنے کےلئے امریکی فوجیوں کا خون بہایا جائے یا امریکی ٹیکس دہندگان کاپیسہ برباد کیاجائے۔جبکہ دس سال کی جنگ، لشکرکشی، جانی نقصان، اور مہم جوئی نے ملت امریکہ کو بری طرح تھکا کر رکھ دیا ہے۔ گیارہ ستمبر دوہزارایک کےبعد سے اب تک امریکہ، دنیا پردوبڑی جنگ اورمتعدد چھوٹی چھوٹی فوجی کاروائياں انجام دے چکا ہے ان جنگوں پر براہ راست ایک ٹریلین سے زیادہ اور بالواسطہ طور پر تین ٹریلین ڈالر خرچ ہوچکے ہيں۔ البتہ اگر افغانستان اور عراق پر انجام پانے والی لشکرکشی اتنی بڑی تعداد میں جانی اور مالی نقصان کے باوجود امریکہ کے لئے کامیابی شمار ہوتی تو رائےعامہ کسی حد تک اس کا ساتھ دیتی۔ لیکن کم سےکم افغانستان کےبارے میں تو کہا ہی جاسکتا ہے کہ خوشی منانے کے لئےکچہ نہيں ہے۔ گذشتہ جنگوں سے حاصل ہونےوالے تجربات کے پیش نظر اس وقت امن کارکن اس کوشش میں ہيں کہ میزائلوں کی فائر سے پہلے امریکی کانگریس اوروہائٹ ہاؤس میں فیصلہ لینے والوں پراثرانداز ہوں کیونکہ اگر جنگ کےشیدائیوں نےشام ميں جنگ شروع کردی تو پھر جنگ کوختم کرنا صرف انھیں کےبس میں نہ ہوگا۔اس صورت میں بھی آخری شکست شہریوں بالخصوص امریکی شہریوں کی ہوگي۔......../169
7 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 460697
شام پرامریکہ کےفوجی حملے کاامکان بڑھنے کےساتھ ہی امریکہ اور اس کے باہر امن پسندگروہوں کی سرگرمیاں بڑہ گئی ہیں۔ اتوار کےدن جنگ کے سیکڑوں مخالفین نے وہائٹ ہاؤس اور کانگریس کےسامنے احتجاجی مظاہرے کئے۔