11 اگست 2013 - 19:30
سعودی عرب کی متضاد حکمت عملی

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سعودی عرب کے بادشاہ نے دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کے سلسلے میں گفتگو کی ہے۔

ابنا: شاہ عبداللہ اور بان کی مون نے ٹیلیفون پر اپنی گفتگو کےدوران اقوام متحدہ کی سرپرستی میں دہشتگردی کے مقابلے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ سعودی عرب نے دہشتگردی کے مقابلے کا پروگرام آگے بڑھانے کے لئے اقوام متحدہ کو سو ملین ڈالر دیئے ہیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب کے اس اقدام پر عالمی مبصرین کو شدید حیرت ہے کیونکہ سعودی عرب مختلف ملکوں منجملہ شام، بحرین، یمن، فلسطین، لبنان،پاکستان اور افغانستان میں دہشتگردوں کی کھلے عام حمایت کررہا ہے۔ بہت سے عالمی حلقے سعودی عرب کو دہشتگردی کا سب سےبڑا حامی سمجھتے ہیں جو مشرق وسطی میں مغرب اور صہیونی ریاست کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں بھر پور کردار ادا کررہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ساری دنیا میں انتھا پسند وہابی دہشتگردوں کو سعودی عرب کی مالی حمایت حاصل ہے۔ بغداد میں امریکہ کے سابق سفیر کرسٹو فر ہیل نے بھی وائٹ ہاوس کو اپنی رپورٹوں میں کہا تھا کہ سعودی عرب عراق میں دہشتگردی کی حمایت کرکے بغداد کی عوامی حکومت کے لئے سب سےبڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔ کرسٹو ہل نے وائٹ ہاوس کو آگاہ کیا تھا کہ سعودی عرب اپنے درباری ملاؤں کو قتل کے فتوے جاری کرنے پر مجبور کرکے دیگر قوموں کے خلاف دہشتگردی پھیلا رہا ہے۔پاکستان میں بھی خونخوار دہشتگرد گروہ جیسے سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔ سیاس مبصرین کا خیال ہےکہ جب تک ارض حجاز پر آل سعود کی حکومت قائم ہے صہیونی ریاست کو بھی تحفظ حاصل ہے۔

.......

/169