22 جولائی 2013 - 19:30
امام حسن (ع) کا بچپن كا زمانہ

بچپن كا زمانہعلى (ع) اور فاطمہ (ع) كے پہلے بيٹے 15 رمضان 3ھ ق كو شہر مدينہ ميں پيدا ہوئے (1) _ پيغمبر (ص) اكرم تہنيت كيلئے جناب فاطمہ (ع) كے گھر تشريف لائے اور خدا كى طرف سے اس بچہ كا نام ' حسن' ركھا(2)امام حسن مجتبى (ع)سات سال تك پيغمبر(ص) اسلام كے ساتھ رہے(3) _رسول اكرم (ص) اپنے نواسہ سے بہت پيار كرتے تھے_ كبھى كا ندھے پر سوار كرتے اور فرماتے:' خدايا ميں اس كو دوست ركھتا ہوں تو بھى اس كو دوست ركھ' (4)اور پھر فرماتے:' جس نے حسن(ع) و حسين(ع) كو دوست ركھا اس نے مجھ كو دوست ركھا _ اور جو ان سے دشمنى كرتا ہے وہ ميرا دشمن ہے' _ (5)امام حسن (ع) كى عظمت اور بزرگى كے لئے اتنا ہى كافى ہے كہ كم سنى كے باوجود پيغمبر (ص) نے بہت سے عہدناموں ميں آپ كو گواہ بنايا تھا_واقدى نے نقل كيا ہے كہ پيغمبر(ص) نے قبيلہ ' ثقيف' كے ساتھ ذمّہ والا معاہدہ كيا، خالد بن سعيد نے عہد نامہ لكھا اور امام حسن و امام حسين عليہما السلام اس كے گواہ قرار پائے (6)والد گرامى كے ساتھرسول (ص) اكرم كى رحلت كے تھوڑے ہى دنوں بعد آپ كے سرسے چاہنے والى ماں كا سايہ بھى اٹھ گيا _ اس بناپر اب تسلى و تشفى كا صرف ايك سہارا على (ع) كى مہر و محبت سے مملو آغوش تھا امام حسن مجتبى (ع)نے اپنے باپ كى زندگى ميں ان كا ساتھ ديا اور ان سے ہم آہنگ رہے_ ظالموں پر تنقيد اور مظلوموں كى حمايت فرماتے رہے اور ہميشہ سياسى مسائل كو سلجھانے ميں مصروف رہے_جس وقت حضرت عثمان نے پيغمبر(ص) كے عظيم الشان صحابى جناب ابوذر كو شہر بدر كر كے رَبَذہ بھيجنے كا حكم ديا تھا، اس وقت يہ بھى حكم ديا تھا كہ كوئي بھى ان كو رخصت كرنے نہ جائے_ اس كے برخلاف حضرت على (ع) نے اپنے دونوں بيٹوں امام حسن اور امام حسين عليہما السلام اور كچھ دوسرے افراد كے ساتھ اس مرد آزاد كو بڑى شان سے رخصت كيا اور ان كو صبر و ثبات قدم كى وصيت فرمائي_ (7)36ھ ميں اپنے والد بزرگوار كے ساتھ مدينہ سے بصرہ روانہ ہوئے تا كہ جنگ جمل كى آگ جس كو عائشےہ و طلحہ و زبير نے بھڑكايا تھا ، بجھاديں_بصرہ كے مقام ذى قار ميں داخل ہونے سے پہلے على (ع) كے حكم سے عمار ياسر كے ہمراہ كوفہ تشريف لے گئے تا كہ لوگوں كو جمع كريں_ آپ كى كوششوں اور تقريروں كے نتيجہ ميں تقريباً بارہ ہزار افراد امام كى مدد كے لئے آگئے_(8) آپ نے جنگ كے زمانہ ميں بہت زيادہ تعاون اور فداكارى كا مظاہرہ كيا يہاں تك كہ اما م (ع) كے لشكر كو فتح نصيب ہوئي_ (9)جنگ صفين ميں بھى آپ نے اپنے پدربزرگوار كے ساتھ ثبات قدم كا مظاہرہ فرمايا_ اس جنگ ميں معاويہ نے عبداللہ ابن عمر كو امام حسن مجتبى (ع) كے پاس بھيجا اور كہلوايا كہ آپ اپنے باپ كى حمايت سے دست بردار ہوجائيں توميں خلافت آپ كے لئے چھوڑ دونگا _ اس لئے كہ قريش ماضى ميں اپنے آباء و اجداد كے قتل پر آپ كے والد سے ناراض ہيں ليكنquot;;" dir="ltr" lang="AR-SA"> آپ كو وہ لوگ قبول كرليں گے _ليكن امام حسن (ع) نے جواب ميں فرمايا: ' نہيں ، خدا كى قسم ايسا نہيں ہوسكتا'_ پھر اس كے بعد ان سے خطاب كركے فرمايا: گويا ميں تمہارے مقتولين كو آج يا كل ميدان جنگ ميں ديكھوںگا، شيطان نے تم كو دھوكہ ديا ہے اور تمہارے كام كو اس نے اس طرح زينت دى ہے كہ تم نے خود كو سنوارا اور معطّر كيا ہے تا كہ شام كى عورتيں تمہيں ديكھي ں اور تم پر فريفتہ ہوجائيں ليكن جلد ہى خدا تجھے موت دے گا _ (10)امام حسن _اس جنگ ميں آخر تك اپنے پدربزرگوار كے ساتھ رہے اور جب بھى موقع ملا دشمن پر حملہ كرتے اور نہايت بہادرى كے ساتھ موت كے منہ ميں كود پڑتے تھے_آپ (ع) نے ايسى شجاعت كا مظاہرہ فرمايا كہ جب حضرت على (ع) نے اپنے بيٹے كى جان، خطرہ ميں ديكھى تو مضطرب ہوئے اور نہايت درد كے ساتھ آواز دى كہ ' اس نوجوان كو روكو تا كہ ( اسكى موت ) مجھے شكستہ حال نہ بنادے_ ميں ان دونوں_ حسن و حسين عليہما السلام _كى موت سے ڈرتا ہوں كہ ان كى موت سے نسل رسول (ص) خدا منقطع نہ ہوجائے'(11)واقعہ حكميت ميں ابوموسى كے ذريعہ حضرت على (ع) كے برطرف كرديئےانے كى دردناك خبر عراق كے لوگوں كے درميان پھيل جانے كے بعد فتنہ و فساد كى آگ بھڑك اٹھى _ حضرت على (ع) نے ديكھا كہ ايسے افسوسناك موقع پر چاہيے كہ ان كے خاندان كا كوئي ايك شخص تقرير كرے اور ان كو گمراہى سے بچا كر سكون اور ہدايت كى طرف رہنمائي كرے لہذا اپنے بيٹے امام حسن(ع) سے فرمايا: ميرے لال اٹھو اور ابوموسى و عمروعاص كے بارے ميں كچھ كہو_ امام حسن مجتبى (ع) نے ايك پرزور تقرير ميں وضاحت كى كہ :' ان گوں كو اس لئے منتخب كيا گيا تھا تا كہ كتاب خدا كو اپنى دلى خواہش پر مقدم ركھيں ليكن انہوں نے ہوس كى بناپر قرآن كے خلاف فيصلہ كيا اور ايسے لوگ حَكَم بنائے جانے كے قابل نہيں بلكہ ايسے افراد محكوم ( اور مذمت كے قابل) ہيں_ (12)شہادت سے پہلے حضرت على (ع) نے پيغمبر(ص) كے فرمان كى بناء پر حضرت حسن (ع) كو اپنا جانشين معينفرمايا اور اس امر پر امام حسين (ع) اور اپنے تمام بيٹوں اور بزرگ شيعوں كو گواہ قرار ديا_ (13)اخلاقى خصوصياتامام حسن (ع) ہر جہت سے حسن تھے آپ كے وجود مقدس ميں انسانيت كى اعلى ترين نشانياں جلوہ گر تھيں_ جلال الدين سيوطى اپنى تاريخ كى كتاب ميں لكھتے ہيں كہ ' حسن(ع) بن على (ع) اخلاقى امتيازات اور بے پناہ انسانى فضائل كے حامل تھے ايك بزرگ ، باوقار ، بردبار، متين، سخي، نيز لوگوں كى محبتوں كا مركز تھے_ (14)ان كے درخشاں اور غير معمولى فضائل ميں سے ايك شمہ برابر يہاں پيش كئے جار ہے ہيں:پرہيزگاري:آپ خدا كى طرف سے مخصوص توجہ كے حامل تھے اور اس توجہ كے آثار كبھى وضو كے وقت آپ كے چہرہ پر لوگ ديكھتے تھے جب آپ وضو كرتے تو اس وقت آپ كا رنگ متغير ہوجاتا اور آپ كاپنے لگتے تھے_ جب لوگ سبب پوچھتے تو فرماتے تھے كہ جو شخص خدا كے سامنے كھڑا ہو اس كے لئے اس كے علاوہ اور كچھ مناسب نہيں ہے _ (15)امام جعفر صادق _نے فرمايا: امام حسن(ع) اپنے زمانہ كے عابدترين اور زاہدترين شخص تھے_ جب موت اور قيامت كو ياد فرماتے تو روتے ہوئے بے قابو ہوجاتے تھے _ (16)امام حسن(ع) ، اپنى زندگى ميں 25 بار پيادہ اور كبھى پابرہنہ زيارت خانہ خدا كوتشريف لے گئے تا كہ خدا كى بارگاہ ميں زيادہ سے زيادہ ادب و خشوع پيش كرسكيں اور زيادہ سے زيادہ اجر ملے_(17)سخاوت:امام(ع) كى سخاوت اور عطا كے سلسلہ ميں اتنا ہى بيان كافى ہے كہ آپ نے اپنى زندگى ميں دوبارتمام اموال اور اپنى تمام پونجى خدا كے راستہ ميں ديدى اور تين بار اپنے پاس موجود تمام چيزوں كو دو حصوں ميں تقسيم كيا_ آدھا راہ خدا ميں ديديا اور آدھا اپنے پاس ركھا _ (18)ايك دن آپ نے خانہ خدا ميں ايك شخص كو خدا سے گفتگو كرتے ہوئے سنا وہ كہہ رہا تھا خداوندا: مجھے دس ہزار درہم ديدے_ امام _اسى وقت گھر گئے اور وہاں سے اس شخص كو دس ہزار درہم بھيج ديئے_(19)ايك دن آپ كى ايك كنيز نے ايك خوبصورت گلدستہ آپ كو ہديہ كيا تو آپ(ع) نے اس كے بدلے اس كنيز كو آزاد كرديا_ جب لوگوں نے اس كى وجہ پوچھى تو آپ نے فرمايا كہ خدا نے ہمارى ايسى ہى تربيت كى ہے پھر اس كے بعد آپ(ع) نے آيت پڑھي_ و اذاحُيّيتم بتحيّة: فحَيّوا باحسن منہا (20) ' جب تم كو كوئي ہديہ دے تو اس سے بہتر اس كا جواب دو_'(21)بردباري:ايك شخص شام سے آيا ہوا تھا اور معاويہ كے اكسانے پر اس نے امام (ع) كو برا بھلا كہا امام (ع) نے سكوت اختيار كيا ، پھر آپ نے اس كو مسكرا كر نہايت شيرين انداز ميں سلام كيا اور كہا:' اے ضعيف انسان ميرا خيال ہے كہ تو مسافر ہے اور ميں گمان كرتا ہوں كہ تو اشتباہ ميں پڑگيا ہے _ اگر تم مجھ سے ميرى رضامندى كے طلبگار ہو يا كوئي چيز چاہيے تو ميں تم كو دونگا اور ضرورت كے وقت تمہارى راہنمائي كروں گا _ اگر تمہارے اوپر قرض ہے تو ميں اس قرض كو ادا كروں گا _ اگر تم بھوكے ہو توميں تم كو سير كردونگا ... اور اگر ، ميرے پاس آؤگے تو زيادہ آرام محسوس كروگے_وہ شخص شرمسار ہوا اور رونے لگا اور اس نے عرض كي: ' ميں گواہى ديتا ہوں كہ آپ زمين پر خدا كے خليفہ ہيں _خدا بہتر جانتا ہے كہ و ہ اپنى رسالت كو كہاں قرار دے_ آپ اور آپ كے والد ميرے نزديك مبغوض ترين شخص تھے ليكن اب آپ ميرى نظر ميں سب سے زيادہ محبوبہيں'_(22)مروان بن حكم _ جو آپ كا سخت دشمن تھا_ آپ (ع) كى رحلت كے بعد اس نے آپ كى تشيع جنازہ ميں شركت كى امام حسين _نے پوچھا_ ميرے بھائي كى حيات ميں تم سے جو ہوسكتا تھا وہ تم نے كيا ليكن اب تم ان كى تشييع جنازہ ميں شريك اور رورہے ہو؟ مروان نے جواب ديا' ميں نے جو كچھ كيا اس شخص كے ساتھ كيا جس كى بردبارى پہاڑ ( كوہ مدينہ كى طرف اشارہ) سے زيادہ تھي_ (23)خلافت21/ رمضان المبارك 40 ھ ق كى شام كوحضرت على (ع) كى شہادت ہوگئي _اس كے بعدلوگ شہر كى جامع مسجد ميں جمع ہوئے حضرت امام حسن مجتبى (ع) منبر پر تشريف لے گئے اور اپنے پدربزرگوار كى شہادت كے اعلان اور ان كے تھوڑے سے فضائل بيان كرنے كے بعد اپنا تعارف كرايا_ پھر بيٹھ گئے اور عبداللہ بن عباس كھڑے ہوئے اور كہا لوگو يہ امام حسن (ع) تمہارے پيغمبر (ص) كے فرزند حضرت على (ع) كے جان شين اور تمہارے امام (ع) ہيں ان كى بيعت كرو_لوگ چھوٹے چھوٹے دستوں ميں آپ كے پاس آتے اور بيعت كرتے رہے_ (24) نہايت ہى غير اطمينان نيز مضطرب و پيچيدہ صورت حال ميں كہ جو آپ كو اپنے پدربزرگوار كى زندگى كے آخرى مراحل ميں در پيش تھے آپ نے حكومت كى ذمہ دارى سنبھالي_ آپ نے حكومت كو ايسے لوگوں كے درميان شروع كيا جو مبارزہ اور جہاد كى حكمت عملى اور اس كے اعلى مقاصد پر چنداں ايمان نہيں ركھتے تھے چونكہ ايك طرف آپ (ع) پيغمبر (ص) و على (ع) كى طرف سے اس عہدہ كے لئے منصوب تھے اور دوسرى طرف لوگوں كى بيعت اور ان كى آمادگى نے بظاہر ان پر حجت تمام كردى تھى اس لئے آپ نے زمام حكومت كو ہاتھوں ميں ليا اور تمام گورنروں كو ضرورى احكامصادر فرمائے اور معاويہ كے فتنہ كو سلادينے كى غرض سے لشكر ا ور سپاہ كو جمع كرنا شروع كيا، معاويہ كے جاسوسوں ميں سے دو افراد كى شناخت اور گرفتارى كے بعد قتل كراديا_ آپ(ع) نے ايك خط بھى معاويہ كو لكھا كہ تم جاسوس بھيجتے ہو؟ گويا تم جنگ كرنا چاہتے ہو جنگ بہت نزديك ہے منتظر رہو انشاء اللہ_ (25)معاويہ كى كارشكنيجس بہانہ سے قريش نے حضرت على (ع) سے روگردانى كى اور ان كى كم عمرى كو بہانہ بنايا معاويہ نے بھى اسى بہانہ سے امام حسن (ع) كى بيعت سے انكار كيا_ (26) وہ دل ميں تو يہ سمجھ رہے تھے كہ امام حسن (ع) تمام لوگوں سے زيادہ مناسب ہيں ليكن ان كى رياست طلبى نے ان كو حقيقت كى پيروى سے باز ركھا _معاويہ نے نہ صرف يہ كہ بيعت سے انكار كيا بلكہ وہ امام (ع) كو درميان سے ہٹا دينے كى كوشش كرنے لگا كچھ لوگوں كو اس نے خفيہ طور پر اس بات پر معين كيا كہ امام (ع) كو قتل كرديں_ اس بناپر امام حسن (ع) لباس كے نيچے زرہ پہنا كرتے تھے اور بغير زرہ كے نماز كے لئے نہيں جاتے تھے، معاويہ كے ان مزدوروں ميں سے ايك شخص نے ايك دن امام حسن (ع) كى طرف تير پھينكا ليكن پہلے سے كئے گئے انتظام كى بناپر آپ كو كوئي صدمہ نہيں پہونچا_ (27)معاويہ نے اتحاد كے بہانہ اور اختلاف كو روكنے كے حيلہ سے اپنے عمال كو لكھا كہ ' تم لوگ ميرے پاس لشكر لے كر آو' پھر اس نے ا