ابنا: رپورٹ میں اعلی سطح کے پاکستانی حکام پر فرائض سے غفلت برتنے اور نااہلی کا الزام لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اُسامہ بن لادن نو سال تک پاکستانی فوج کے قریب ایبٹ آباد میں چھپے رہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اُسامہ بن لادن نو سال تک پاکستان میں رہے جن میں سے چھ سال انھوں نے ایبٹ آباد میں گزارے۔ کمیشن نے اس بات پر حیرانی کا بھی اظہار کیا ہے کہ سنہ دو ہزار گیارہ میں ہی ایک اور شدت پسند رہنماء کی ایبٹ آباد میں ہی گرفتاری کے بعد اس بات پر غور کیوں نہیں کیا گیا کہ شہر میں کون لوگ مقیم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس آپریشن کے دوران پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت نے پاکستانی فضائیہ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ امریکی ہیلی کاپٹروں کو مار گرائیں تاہم یہ احکامات جب تک دیے گئے، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔کمیشن کی اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی انٹیلیجنس کے ایک سابق سربراہ نے کہا ہے کہ اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اُسامہ بن لادن کے بعد القاعدہ کے سربراہ بننے والے ایمن الظواہری بھی پاکستان میں تھے۔

کمیشن نے اس رپورٹ پر ایک سال سے زائد عرصہ تک کام کیا اور رپورٹ کی تیاری میں سیاست دانوں، سکیورٹی فورسز، خفیہ اداروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایک سو سے زائد افراد کے بیانات لیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم کیے گئے تین رکنی کمیشن نے چھ ماہ قبل یہ رپورٹ اُس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کودی تھی۔ اس رپورٹ کو منظرِ عام پر لایا جانا تھا تاہم یہ رپورٹ پوشیدہ رکھی گئی جو اب بعض ذرائع ابلاغ کو مل چکی ہے۔
.....
/169