8 جولائی 2013 - 19:30
مصر کی صورتحال پر ایران کا اظہار تشویش

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مصر میں تشدد اور جھڑپوں سے ہٹ کر داخلی اتحاد و یکجہتی کے تحفظ کی خاطر ایک اتفاق رائے تک پہنچنے کے لیے مصر کے تمام گروہوں کے قومی اتحاد پر زور دیا ہے

ابنا: ۔ ریڈیو تہران کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس عراقچی نے منگل کے روز ملکی اور غیرملکی صحافیوں کے ساتھ ہفتہ وار پریس بریفنگ میں مصر کے حالیہ حالات کے بارے میں تہران کا موقف بیان کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ انسان دوستانہ اور جمہوری اصول اور عوام کے جائز مطالبات پر توجہ دی جائے گی اور متحارب فریق قومی اتحاد اور اتفاق رائے سے ایک پرامن راہ حل تک پہنچ جائيں گے۔
سید عباس عراقچی نے امید ظاہر کی کہ مصری عوام اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ تفرقہ ڈالنےوالے ہاتھ ان کے ملک کو خانہ جنگی اور اختلافات کی طرف لے جائيں۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام اور عرب دنیا کی یہ بڑی طاقت ایک بار پھر بین الاقوامی میدان میں واپس آ جائے گی۔
عباس عراقچی نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ مصر کے حالات کے بارے میں موقف کا اعلان اس ملک کے داخلی امور میں مداخلت نہیں ہے، گزشتہ دنوں کے دوران مصر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ہلاک اور زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو مصر میں رونما ہونے والے حالات پر تشویش ہے کہ جوخانہ جنگی اور داخلی اختلافات پرمنتج ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصر کی صورت حال بدستور مبہم ہے اور یہاں کے حالات اپنی فطری نہج پر آگے نہیں بڑھ رہے ہیں اس بنا پر اس بارے میں فیصلہ کرنا کہ ان حالات کی وجوہات کیا تھیں، قبل از وقت ہے۔ اہم بات مصری عوام کی جائز خواہشات کا احترام کرنا ہے اور ان خواہشات پر عمل درآمد پرامن راستوں سے ہوتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ مصر میں جھڑپوں اور کشیدگی کا جاری رہنا تمام ملکوں خاص طور پر علاقے کے ملکوں کی تشویش کا باعث بن گيا ہے، مزید کہا کہ ایران کو مصر کے اندر تشدد اور خونریزی اور علاقے پر اس کے اثرات کے بارے میں تشویش ہے۔ انہوں نے ایران اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے درمیان آئندہ ماہ ممکنہ مذاکرات کی خبروں کی تصدیق نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ تجاویز پیش کی گئی ہیں تاکہ ایران اور عالمی ایٹمی ایجنسی کے درمیان مذاکرات کا نیا دور انجام پائے لیکن ابھی تک کوئي حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
سید عباس عراقچی نے شام میں بعض متحارب گروہوں کی جانب سے ماہ رمضان میں جنگ بندی کی درخواست کے بارے میں کہا کہ یہ ایک اچھی بات ہے اور تمام متحارب گروہوں کو ہتھیار پھینک کر شامی حکومت کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲