5 جولائی 2013 - 19:30
مرسی حکومت کیوں سرنگوں ہوئی؟

شائد سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والا کوئی بھی انسان یہ سوچ نہیں رہا تھا کہ مصر کے عوام اخوان المسلمین کی حکومت کی پہلی سالگرہ پر ہی اسے سرنگوں کر دیں گے۔ اخوان المسلمین کی سرنگونی کا امکان ضرور تھا مگر اتنا جلدی نہیں، لیکن مصر کے عوام نے یکدم حکومت کا تختہ الٹ کر تمام سیاستمداروں کو حیرت میں ڈال دیا۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ میڈل ایسٹ آنلائن ویب سائٹ کے سیاسی تجزیہ نگار نے اپنے مقالہ میں لکھا ہے کہ مصر میں جو کچھ ہوا ہے یہ کوئی اتفاق نہیں ہے بلکہ دقیق منصوبہ بندی اور سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت ہوا ہے اس لیے کہ اخوان المسلمین کے رہنما کلی طور پر سیاسی حماقت کا شکار تھے اور اسی وجہ سے وہ اپنے دور حکومت میں ایسی فاحش غلطیوں کے مرتکب ہوئے ہیں کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی بر سر اقتدار آنے کے بعد جن کا ارتکاب نہیں کرتی ہے۔یہ سیاسی تجزیہ نگار مرسی حکومت کی چند فاحش غلطیوں کی طرف یوں اشارہ کرتے ہیں:۱: اخوان المسلمین اس بات کا بخوبی ادراک نہیں کر پائی کہ مصر جیسے ملک کا اقتدار جس کے ہاتھ میں ہو اسے قطر جیسے معمولی ملک کے آگے جھکنے کی ضرورت کیا ہے؟اخوان المسلمین نے اپنی سیاست مداری کے دور میں قطر کی پالیسیوں کا اتباع کر کے مصر کی جہان اسلام میں بچی کچھی حیثیت کو بھی ختم کر دیا اور سیاسی حوالے سے اس ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ شیخ قرضاوی جو اخوان المسلمین میں گہرہ اثر و رسوخ رکھتا ہے اس نے اخوان المسلمین کو قطری پالیسیاں اپنانے پر مجبور کیا ہو۔ اخوان حکومت کے دور میں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ مصری وزارت خارجہ قطری وزارت خارجہ کا ترجمان ہے جس کا زندہ ثبوت مسئلہ فلسطین اور بحران شام کے سلسلے میں مرسی کا موقف تھا۔علاوہ از ایں، قطر مصر کے اندرونی مسائل، داخلی سیاست اور اقتصادی پالیسیوں میں بھی دخیل تھا جس کا ٹھوس ثبوت اخوان المسلمین کی مرکزی عمارت سے حملے کے بعد پیدا شدہ اسناد و مدارک ہیں جن کے مطابق اخوان المسلمین نے امیر قطر سے ان کی اقتصادی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے نتیجے میں انعامات حاصل کئے ہیں۔۲: اخوان المسلمین اس بات پر متوجہ نہیں تھے کہ سلفیوں کو اپنے قریب کرنا، ان کی حمایت کرنا نیز ان کے شرپسندانہ منصوبوں کے مقابلے میں خاموشی اختیار کر کے انہیں مصر میں کھلا میدان دے دینا ان کی حکومت کے پیروں میں لڑکھڑاہٹ پیدا کرنے کا باعث ہو گا اس لیے کہ یہاں سعودی عرب نہیں ہے یہاں مصر ہے۔یہ چیز اظھر من الشمس ہے کہ وہابی افراطی قسم کے لوگ ہیں اعتدال اور میانہ روی ان کے قریب سے نہیں گزری ہے جبکہ اخوان المسلمین جو اعتدال پسند گروہ تھا اس کے صف اول کے افراد بھی سلفی افکار کی زد میں آ گئے تھے اور سلفیوں کے ساتھ وابستہ ہو گئے تھے جبکہ اگر اخوان المسلمین اپنی میانہ روی پر باقی رہتے تو وہ مصرکے سماج میں زیادہ مقبولیت حاصل کرتے۔ مصری معاشرہ سلفیوں کے افراطی طرز عمل کو ہر گز قبول نہیں کر سکتا۔ مصر کی اکثریت اہلسنت پر مشتمل ہے اور اہلسنت وہابیوں کے مقابلہ میں میانہ رو ہیں اعتدال پسند ہیں ایسے میں کوئی بھی حکومت جو سلفی طرز تفکر پرعمل پیرا ہو کر مصر جیسے ملک میں حکومت کرنا چاہے گی تو اس کے لیے ایک سال بھی حکومت کر لینا بہت بڑی کامیابی ہے۔ ۳: اخوان المسلمین یہ نہیں سمجھ سکے کہ ملک کی صدارت کا عہدہ عام تنظیموں کے صدارتی عہدوں سے مختلف ہوتا ہے ملک کا صدارتی عہدہ پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے بعد ملا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے آدھے سے زیادہ لوگ آپ کے ساتھ ہیں اور ایک کثیر جماعت آپ کی مخالف بھی ہے۔ لیکن چونکہ اخوان المسلمین کا دنیائے سیاست میں پہلا تجربہ تھا وہ اس چیز کو ٹھیک ڈھنگ سے ہضم نہیں کر پائے کہ ملک کے تقریبا آدھے سے تھوڑا کم لوگ جنہوں نے آپ کو ووٹ نہیں دیئے ان کا اعتماد آپ کو کیسے حاصل کونا ہو گا؟ انہیں کس طرح سے اپنے قریب کرنا ہو گا؟ ملک کے صدر کو پہلے مرحلے میں اپنے مخالفین کے افکار کو بدلنا ہوتا ہے، ان کے اعتماد کو اپنی طرف جذب کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ ان پر بھی حکومت کر سکے اور ان پر بھی اپنا حکم چلا سکے جبکہ محمد مرسی اپنے مخالفین کے اعتماد کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔۴: اخوان المسلمین کی خارجہ پالیسیوں میں ناکامی بھی ایک اہم سبب ہے جس کی بنا پر یہ حکومت زیادہ دیر ثابت قدم نہ رہ سکی۔ اسرائیل کے ساتھ نرمی اور امریکہ کے ساتھ دوغلی پالیسی نہ صرف امریکہ کو قانع نہ کر پائی بلکہ امریکہ کی دوری کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کی  دوری کا بھی باعث بنی ۔اخوان المسلمین کا  امریکہ کے ساتھ یہ دوغلا رویہ اس بات کا باعث بنا کہ وہ امریکہ کے سامنے ایک منافق چہرے کی حیثیت اختیار کر گیا اس لیے کہ اخوان المسلمین اندرونی طور پر امریکہ کے خلاف منصوبہ بندی کررہے تھے جبکہ بظاہر وہ امریکہ سے اپنے روابط قریب کرنا چاہتے تھے۔ اخوان المسلمین کے رہنما بر سر اقتدار آنے سے پہلے ہمیشہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں امریکہ اور اسرائیل کی بدگوئی کرتے اور ان کے خلاف قدم علم کرتے تھے اور لوگوں کو وعدے دیتے تھے کہ اقتدار حاصل کرنے کی صورت میں امریکہ اور اسرائیل سے کوئی رابطہ نہیں رکھیں گے جبکہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس کے برخلاف نمایاں ہوئے۔ پہلے وہ ہمیشہ قدس کی آزادی اور فلسطین کی حمایت میں نعرے لگاتے تھے لیکن جب اقتدار ملا تو اسرائیل کے ساتھ روابط مضبوط بنا لئے اور اس کے برخلاف اسرائیل مخالف ممالک جیسے شام سے قطع تعلق کر کے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔ اور اسرائیلی وزیر اعظم شیمون پرز کو خط لکھ کرخود کو اسرائیل کا مخلص اور خیر خواہ دوست پیش کیا۔مرسی حکومت کا ایک نمایاں ضعف یہ بھی تھا کہ وہ اردوغان کے جال میں بھی پھنس گئے جبکہ اس جال میں صرف سادہ لوح اور احمق افراد ہی پھنس سکتے ہیں۔ اردوغان نے مرسی کو قانع کیا کہ تحریک حماس میں پائے جانے والے اپنے اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حماس کے رہبر کو اپنا درد مندانہ مشورہ دے کہ وہ اسرائیل پر حملوں کو روک دے اور اسرائیل کے خلاف غزہ پٹی پر کسی قسم کا شدت پسندانہ اقدام نہ کرے۔ اس کے مقابلہ میں ۔۔۔۔ کچھ نہیں، صرف اسرائیل اپنے فلسطین پر روز مرہ کے حملوں کو روک دے گا۔ حالانکہ اس سے پہلے فلسطین کی طرف سے اسرائیل پر کئے جانے والے حملوں سے اسرائیل پر دباو پڑ رہا تھا اور وہ حملے فلسطین کی مقاوت اور مزاحمت کا ثبوت تھے۔ اگر فلسطین اپنی مزاحمت روک دے اور خاموشی سے بیٹھ جائے تو اسرائیل بھی اپنے حملے بند کر دے گا لہذا نتیجہ یہ ہو گا کہ مسئلہ جہاں ہے وہیں ختم ہوجائے گا جو علاقہ اسرائیل کے قبضے میں ہے وہ اس کا رہے گا اور جو فلسطین کے اختیار میں باقی بچا ہے وہ اسی پر قانع رہے گا۔ حماس کا سادہ لوح رہبر بھی اردوغان بلکہ اسرائیل کی طرف سے بچھائے ہوئے اس جال کی طرف متوجہ نہیں ہوا اور اس نے مرسی کے مشوروں پر عمل درآمد کر کے مقاومت کو روک دینے کا فیصلہ کر لیا اور غزہ پٹی پر قائم فلسطینی سپاہیوں کو صرف حفاظتی دستوں میں تبدیل کر دیا۔ اخوان المسلمین کے ایک سالہ دور حکومت ک یہ چند ایک فاحش غلطیاں تھی جن کی بنا پر وہ ایک سال سے زیادہ دوام نہیں لا سکے۔ بہرحال خدا کا لطف و کرم مصری عوام کے شام حال ہوا اور اس سے پہلے ہی یہ کٹھ پتلی خیمہ سمٹ گیا کہ مصر کے مسلمان جوق در جوق دین سے خارج ہوجاتے۔توهين به شيعيان در كنفرانسي در مصر با حضور رئيس جمهور اين كشورایک کانفرنس کے اندر مرسی کی موجودگی میں وہابیوں کی طرف سے شیعوں کی توہین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲