ابنا: امریکہ نے ایکواڈور کی حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے سابق اہلکاراسنوڈن کو سیاسی پناہ نہ دے۔ایکواڈور کے صدر رافیل کورے کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جوبائیڈن نے انہیں فون کرکے اسنوڈن کوسیاسی پناہ نہ دینے کی درخواست کی ہے جس کاوہ جائزہ لیں گے۔ امریکی قومی سلامتی ایجنسی کے سابق اہلکارنے ہانگ کانگ میں امریکی مواصلات کی نگرانی کے پروگرام سے متعلق تفصیلات سے پردہ اٹھایاتھاجس کے بعد سے وہ امریکاکومطلوب ہے۔دوسري جانب برطانوي اخبار گارڈين نے جاسوسي کي تازہ دستاويزات شائع کي ہيں جن سے پتہ چلتا ہے کہ شہريوں کي نجی زندگي کے معاملات ميں مداخلت کے اس کھيل ميں صدر اوباما بھي ملوث ہيں- رپورٹ کے مطابق عام لوگوں کي جاسوسي کے اس پروگرام کا آغاز گيارہ ستمبرکے واقعے کے بعد ہوا تھا اور صدر باراک اوباما نے بھي مذکورہ پروگرام کو سن دوہزار گيارہ کےآخرتک جاري رکھا ہے- امريکہ ميں عام شہريوں کي بڑے پيمانے پر جاسوس کا انکشاف ايڈورڈ اسنوڈن نے کيا تھا جو سي آئي اے اور امريکي نيشنل سيکورٹي ايجنسي کا سابق ايجنٹ ہے- انساني حقوق کے لئے کام کرنے والي تنظيموں کا کہنا ہے کہ حکومت امريکہ کا يہ اقدام شخصي اور شہري آزاديوں کے قوانين کي کھلي خلاف ورزي ہےاسنوڈن اس واقعہ کے بعد ہانگ کانگ سے ماسکوچلاگیا تھا جہاں وہ کئی دنوں سے ایئرپورٹ کے ٹرانزٹ ایریامیں موجودہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
29 جون 2013 - 19:30
News ID: 435288
امریکہ نے ایکواڈور کی حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے سابق اہلکار اسنوڈن کو سیاسی پناہ نہ دے۔