28 جون 2013 - 19:30
ایک امریکی شہری سمیت مصر میں چار افراد ہلاک

مصر کے سکیورٹی اور اسپتال ذرائع کے مطابق، صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تصادم میں ایک امریکی شہری سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ابنا: ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز مصر کے بندرگاہی شہر اسکندریہ میں مظاہرین میں سے ایک شخص اور ایک امریکی کیمرہ مین کو ہلاک کر دیا گيا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مصری شہری کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تو وہیں اخوان المسلمین کے ہیڈ کوارٹر کے قریب جسے حکومت مخالف مظاہرین نے آگ کے حوالے کردیا امریکی شہری کے سینے میں چھرا گھونپ دیا گیا۔وزارت صحت کے ترجمان یحیی موسی کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کے دوران 160 سے زائد افراد زخمی بھی ہو گئے ہیں۔اخوان المسلمین کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے مطابق، ایک شخص مرسی کے آبائی شہر زگازگ میں بھی ہلاک ہو گیا ہے۔شمال مشرقی شہر پورٹ سعید میں مظاہرین کے درمیان ایک گیس سلنڈر پھٹنے سے ایک احتجاجی ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہرین نے اس کے آٹھ دفاتر پر حملہ کر کے انہیں تباہ کر دیا ہے۔دارالحکومت قاہرہ میں بھی ہزاروں حکومت مخالف اور حامی مظاہرین نے علیحدہ علیحدہ احتجاجی مظاہرے منعقد کیے۔ وزارت دفاع اور صدارتی محل کے سامنے اور تحریر چوک پر بیشتر مظاہرے پرامن رہے۔اس سے ایک دن قبل مصر کے معروف علماء نے خانہ جنگی کے تئیں خبردار کرتے ہوئے ملک میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے پر زور دیا تھا۔مصر کے معروف تعلیمی ادارے جامعہ الازہر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم خانہ جنگی  کی طرف تو نہیں جا رہے ہیں۔مسلم ممالک میں سب سے زیادہ با اثر تعلیمی مراکز میں سے ایک نے مرسی کی جانب سے بات چیت کی پیشکش کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں پر تشدد کرنے والے اور مساجد کو نشانہ بنانے والے جرائم پیشہ گروہ ہیں۔......./169