26 جون 2013 - 19:30
دوسروں کوموردالزام ٹہرانے کی سعودی کوشش

ایسے عالم میں جب امریکہ اور علاقے کےبعض ملکوں کی ریشہ دوانیوں سے بحران شام خطرناک مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ، سعودی وزیرخارجہ سعودالفیصل نے ایک بیان میں ایران کوبحران شام کاذمہ دار قراردیا ہے۔

ابنا: سعودی وزیرخارجہ سعود الفیصل نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کےساتھ مشترکہ پریس کانفرنس ميں کہاکہ سعودی عرب ، شام میں ایران اورحزب اللہ لبنان کےکردار کو خطرناک سمجھتا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان سیدعباس عراقچی نے سعودی عرب کےوزیرخارجہ کےاس بیان کو تضادات سے پرقراردیا ہے۔عراقچی نے تاکیدکےساتھ کہاکہ شام میں ایران کی مداخلت کا تکراری دعوی ایسے عالم میں سامنے آرہا ہے کہ سعودی عرب، بحرین میں کھلی فوجی مداخلت کےساتھ ہی تمام عالمی کنونشنوں اورقوانین کوپامال کرتے ہوئے شام میں موجود دہشتگردوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے مسلح کررہا ہے اوراس طرح شام کےنہتھے عوام کےخلاف تکفیری دہشتگردوں کےجرائم میں برابرکاشریک ہے۔شام میں ایرانی فوجیوں کی موجودگی اورمداخلت پرمبنی سعودی وزیرخارجہ سعود الفیصل کےبیانات ایسے عالم میں سامنےآئے ہيں کہ انھوں نےابھی دو دن پہلے امریکی وزیرخارجہ کےساتھ ہی ساتھ خود بھی شام میں مسلح گروہوں کی حمایت جاری رکھنے پرتاکید کی۔اس ميں کوئی شک نہيں کہ شام کی صورت حال کےاس قدر پیچیدہ ہونے کےذمہ دار وہ ممالک ہيں جو مسلح اورغیرذمہ دارگروہوں کوہتیھار بھیج کراس ملک میں بدامنی پھیلنےکاباعث بنے ہیں۔امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، ترکی ، سعودی عرب اور قطر ان ممالک میں ہيں جوابتداء سے ہی تشدد روکنے کےلئے تعمیری تجاویز پرکوئي توجہ دینے کےبجائے صرف انتہاپسند اورتشددپسندگروہوں کومسلح کرتے رہے ہیں اوراپنی عملی حمایت سے اس ملک کےبحران میں غیرتعمیری کردار ادا کرتے رہے ہيں۔یہ ممالک نے ملت شام  کےعزم وارادے اورمطالبات پرکوئي توجہ دیئےبغیر صرف اس فکر میں رہے ہيں کہ اسد حکومت کاتختہ الٹ کر اقتدارباغیوں کےحوالے کردیاجائے جبکہ اس مداخلت پسندانہ سیناریو میں شامی عوام کےعزم وارادے پرکوئی توجہ نہيں دی گئی ۔اس غیرمنطقی پالیسی پراصرار نے شام کو ایک خوں ریز جنگ کی آگ میں جھونک دیا ہے اور اس عمل کےجاری رہنے سے تشدد وخوں ریزی رکنے ميں مدد کےبجائے انتہاپسندوں کی موجودگی اور ان کی طاقت مزید بڑہ گئی  بنا برایں یہ ممالک شام کی افسوسناک صورت حال کےذمہ دار ہونے سے اپنا دامن نہيں بچا سکتے۔اور اس میں توکوئي شک نہيں کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ ہی شام میں اصلاحات کی حمایت کی ہے اوراس کاخیال ہے کہ بحران شام کاحل جنگ وخونریزی نہيں بلکہ شامی حکومت اورمخالفین کےدرمیان قومی مذاکرات ہیں۔مصر کی تجویز پر چارفریقی کمیٹی جس میں ایران ، سعودی عرب اورترکی بھی شامل ہيں ، ایران کی اس مثبت سوچ کی تصدیق کرتی ہے کہ ایران بحران شام کےخاتمے کےلئے اجتماعی کوششوں کاحامی ہے لیکن سعودی عرب اور ترکی نے اس سمت کےبرخلاف قدم اٹھایا ہے۔ جبکہ عالم اسلام کےمسائل کےحل میں سعودی عرب کی صلاحیتوں کےپیش نظر توقع یہ تھی کہ سعودی عرب ان کوششوں کامثبت جواب دےگا اوربحران شام کےحل میں مدد کرےگا۔......./169