15 جون 2013 - 19:30
مصر نے شام کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کیے

مصر کے صدر محمد مرسی نے شام کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات منقطع کرنے اور قاہرہ میں شام کے سفارت خانے کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے.

ابنا: سنیچر کے روز قاہرہ میں ایک ریلی میں ہزاروں حامیوں کو خطاب کرتے ہوئے مرسی نے کہا کہ ہم نے آج شام کی موجودہ حکومت کے ساتھ مکمل طور پرسفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت بھی دمشق سے مصر کے سفارت کاروں کو واپس بلا رہی ہے۔اس کے علاوہ، مرسی نے مغربی ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کی حدود میں نو فلائی زون کا نفاذ کریں۔امریکہ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ شام پر نو فلائی زون مسلط کرے گا اور پینٹاگن آگے کی کارروائی کے لئے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔اسی طرح مرسی نے لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ شام سے دستبردار ہو جائے، مرسی نے کہا کہ "حزب اللہ کو چاہیے کہ وہ شام سے نکل جائے۔ یہ میں پوری سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں، شام میں حزب اللہ کے لئے کوئی جگہ اور کوئی فضا نہیں ہے۔واضح رہے کہ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسٹریٹجک سرحدی شہر قصیر میں مزاحمتی تحریک کے ارکان غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف شامی حکومت کی افواج کے شانہ با شانہ لڑ رہے تھے۔تین ہفتوں کی لڑائی کے بعد 5 جون کو شامی فوج نے قصیر پر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، شام میں مارچ 2011 سے شروع ہونے والے بحران میں اب تک سرکاری فورسز کی بڑی تعداد سمیت تقریبا 93 ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔غیر ملکی حمایت یافتہ دشت گرد شام میں وسیع پیمانے پر بدامنی پھیلا رہے ہیں اور قتل و غارتگری کر رہے ہیں، معتبر اطلاعات کے مطابق شامی حکومت کے خلاف لڑ رہے دشت گردوں میں بہت بڑی تعداد غیر ملکیوں کی ہے۔شامی حکومت کا کہنا ہے کہ مغرب اور اس کے علاقائی اتحادی ممالک  خاص طور پر قطر، سعودی عرب اور ترکی عسکریت پسندوں کی حمایت کر رہے۔اس کے علاوہ، کئی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شام میں سرگرم عسکریت پسندوں کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا ہے۔......./169