ابنا: آنگ سان سوچی نے اس قانون پرشدید تنقید اور مذمت کی ہے جس کےمطابق مسلمانوں پر دو سےزیادہ بچے پیداکرنے پرپابندی عائد کی گئي ہے۔انھوں نے رنگون میں صحافیوں سےگفتگوکرتےہوئے کہا کہ اس طرح کےامتیازی سلوک نہ صرف یہ کہ پسندیدہ نہيں ہيں بلکہ انسانی حقوق کےقوانین کےبھی خلاف ہيں۔آنگ سان سوچی نےکہا کہ مجھے نہیں معلوم اس قانون پرعمل درآمد ہوگا یا نہيں ۔درایں اثنا ہیومن رائٹ واچ نے بھی اس قانون کی مذمت کرتےہوئے اسے انسانی حقوق کےخلاف قرار دیا اور میانمار کی مرکزی حکومت سےمطالبہ کیا کہ وہ اس کےخلاف اقدام کرے۔ہیومن رائٹس واچ کےمطابق ماضي میں بھی یہ فیصلہ جھڑپوں ، گرفتاریاں اور مسلمانوں کےبچوں کے لئے شناختی کارڈ جاری نہ کئے جانے پرمنتج ہوئے ہيں ۔
.......
/169