ابنا: ترکي ميں دہشتگردانہ بم دھماکوں کے بعد ترکي ميں لوگوں نے بڑے پيمانے پر مظاہرہ کرکے وزير اعظم رجب طيب اردوغان کے استعفے کا مطالبہ کيا ہے –پريس ٹي وي کے مطابق يہ مظاہرے شام کي سرحد کے قريب ترکي کے جنوبي شہر ريحان لي ميں ہونےوالے خوفناک بم دھماکوں کے بعد ہوئے –ريحانلي شہر کے مشتعل مظاہرين کا کہنا تھا کہ يہ دھماکے ترکي کي حکومت کي شام مخالف پاليسيوں اور دہشتگردوں کي حمايت کرنے کا نتيجہ ہے مظاہرين کا کہنا تھا کہ رجب طيب اردوغان فوري طور پر اپنے عہدے سے استعفا دے ديں –عيني شاہدين کا کہنا ہے کہ جنوبي شہر ريحانلي ميں جہاں دھماکے ہوئے ہيں حفاظتي انتظامات سخت کردئے گئے ہيں - اور سيکورٹي فورس نے جگہ جگہ چيک پوسٹيں قائم کردي ہيں اور لوگوں کي تلاشي لي جارہي ہے - ادھر دارالحکومت انقرہ ميں بھي بڑي تعداد ميں لوگوں نے مظاہرہ کرکے وزير اعظم رجب طيب اردوغان اور وزير خارجہ احمد داؤد اوغلو کے خلاف نعرے لگائے –ترکي کے جنوبي شہر ريحانلي ميں ہوئے دھماکوں ميں مرنے والوں کي تعداد تينتاليس ہوگئي ہے -ترکي کے نائب وزير اعظم بشير اتالائي نے نامہ نگاروں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہان دھماکوں ميں سو سے زائد لوگ زخمي ہوئے ہيں جن ميں زيادہ تر لوگوں کو معمولي زخم آئے ہيں ترکي کے وزير داخلہ نے دعوي کيا ہے کہ بم دھماکوں ميں ملوث افراد کي شناخت کرلي گئي ہے –دوسري طرف ترکي کي نيشنل ايکشن پارٹي کے سربراہ نے ريحانلي بم دھماکوں کے بعد کہاکہ ترکي کي سرحدوں کي سيکورٹي بري طرح متاثر ہوگئي ہے –ترکي ميں حزب اختلاف کي دوسري سب سے بڑي پارٹي نيشنل ايکشن پارٹي کے سربراہ دولت باغچہ لي نے ريحانلي شہر کے دھماکوں اور ان ميں ہونےوالے جاني نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزير اعظم رجب طيب اردوغان پر الزام لگايا کہ وہ بڑي طاقتوں کے مفادات کي راہ ميں ہي قدم بڑھا رہے ہيں - انہوں نے کہا کہ شام کے بارے ميں ترکي کي حکومت کي پاليسي نے ترک شہريوں کي جاني اور مالي سيکورٹي کو متاثر کرديا ہے –ترکي کے حزب مخالف کے ليڈر دولت باغچہ لي نے بشار اسد کے خلاف ترک وزير اعظم رجب طيب اردوغان کے اشتعال انگيز بيانات پر تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات سے اس بات کي غمازي ہوتي ہے کہ ترکي کو اپني سرحدوں پر سنگين خطرات کا سامناہے –دولت باغچہ لي نے کہا کہ ترکي کي حکومت نے شام کے مخالفين کو جو مراعات دي ہيں اور اسي طرح ترکي کي طرف سے شام ميں مسلح باغيوں کو اسلحہ جاتي اور مالي امداد کي وجہ سے شام ميں جاري جنگ کے شعلوں کے ترکي کي سرحد تک پھيل جانے کا بہت زيادہ امکان ہے - انہوں نے کہا کہ رجب طيب اردوغان نے امريکا کي حمايت حاصل کرنےکے لئے شام ميں ممنوعہ فضائي علاقہ قائم کرنے جيسے اشتعال انگيز بيانات دئےہيں جس سے ترکي ايک خونين اور گندے دلدل ميں پھنستا جارہا ہے -...../169
11 مئی 2013 - 19:30
News ID: 418454
ترکي کے مختلف شہروں ميں لوگوں نے بڑے پيمانے پر مظاہرہ کرکے وزير اعظم رجب طيب اردوغان کے استعفے کا مطالبہ کيا ہے -