ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے آج اردن کے دارالحکومت امان میں اس ملک کے وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ شام کا بحران بغیر بیرونی مداخلت کے مفاہمت آمیز طریقوں سے حل ہونا چاہیے اور ان ہی بنیادوں شام کے عوام اپنا حق خود ارادیت استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شام میں ہرطرح کی بیرونی مداخلت کا مخالف ہے اور اس بحران کو پھیلنے سے روکنا چاہتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہاکہ ایران شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ اور شام کے عوام کے حقوق کے احترام پر یقین رکھتا ہے اور اسے ضروری سمجھتا ہے اور مخالفیں سے یہ کہتا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرکے عبوری حکومت تشکیل دینے کی کوشش کریں۔ انہوں نے شام پر صیہونی حکومت کی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب پر لازم ہے کہ وہ سب صیہونی حکومت کے خلاف متحد ہوجائيں۔ اس مشترکہ پریس کانفرنس میں اردن کے وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کا ملک شام میں خونریزی کے خاتمے کا خواہاں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
انہوں نے کہا کہ شام کا بحران بغیر بیرونی مداخلت کے مفاہمت آمیز طریقوں سے حل ہونا چاہیے اور ان ہی بنیادوں شام کے عوام اپنا حق خود ارادیت استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شام میں ہرطرح کی بیرونی مداخلت کا مخالف ہے اور اس بحران کو پھیلنے سے روکنا چاہتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہاکہ ایران شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ اور شام کے عوام کے حقوق کے احترام پر یقین رکھتا ہے اور اسے ضروری سمجھتا ہے اور مخالفیں سے یہ کہتا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرکے عبوری حکومت تشکیل دینے کی کوشش کریں۔ انہوں نے شام پر صیہونی حکومت کی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب پر لازم ہے کہ وہ سب صیہونی حکومت کے خلاف متحد ہوجائيں۔ اس مشترکہ پریس کانفرنس میں اردن کے وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کا ملک شام میں خونریزی کے خاتمے کا خواہاں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲