21 اپریل 2013 - 19:30
جمہوریت کیا ہے؟

جمہوریت یعنی حقِ حاکمیت جمہور کو حاصل ہے اور عوام اپنا حقِ حاکمیت ووٹ کے ذریعے سے اپنے نمائندے کو عطا کردیتے ہیں کہ یہ نمائندہ انکی جانب سے حکومت کرے۔

ابنا: جامعہ عروۃ الوثقی لاہور میں علامہ جواد نقوی نے اپنے ایک خطاب میں جمہوریت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت یعنی حقِ حاکمیت جمہور کو حاصل ہے اور عوام اپنا حقِ حاکمیت ووٹ کے ذریعے سے اپنے نمائندے کو عطا کردیتے ہیں کہ یہ نمائندہ انکی جانب سے حکومت کرے۔ انہوں نے کہا آپ جو اپنا حقِ حاکمیت دوسرے کو سپرد کرتے ہو تو کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے آیا مجھے حقِ حاکمیت دیا گیا ہے؟۔ حاکمیت کا حق صرف خدا کو حاصل ہے اور خدا اگر کسی کو حقِ حاکمیت دیدے تو وہ اس کا ’’ولی‘‘ ہو جاتا ہے  جو لوگوں پر صاحب اختیار ہوتا ہے۔علامہ جواد نقوی نے مزید کہا: رسول اللہ ولیِ ناس ہیں اسی لیے فرمایا کہ کیا میں تم سے زیادہ تم پر حق نہیں رکھتا؟ سب نے کہا یا رسول اللہ آپ ہم پر ہم سے زیادہ حق رکھتےہیں۔ رسول اللہ نے فرمایا اگر میرا حق ہے تو خدا کے حکم سے میرے بعد میرے وصی کا حق ہے۔ شیعہ اسی کو کہتے ہیں جو ولایتِ علیؑ پر ایمان رکھتا ہو، یعنی ایمان رکھتا ہو کہ علیؑ رسول اللہ کی طرف سے انسانوں پر حاکم ہیں اور رسول اللہ خدا کی طرف سے حاکم ہیں۔ اب شیعہِ علیؑ، شیعہ بھی ہے اور ہاتھ میں ووٹ بھی ہے یعنی وہ علیؑ سے کہہ رہا ہے کہ اللہ نے آپکو بنایا ہے میں اسکو بنا رہا ہوں اسی کو کہتے ہیں طاغوت، نظامِ طاغوتی یعنی اللہ کے مقابلے میں جو نظام ہو۔ ہم تضاد کا شکار ہیں ایک طرف سے ولایت کے قائل ہیں دوسری طرف سے ہاتھوں میں ووٹ بھی ہیں اور وہ بھی دین کے نام پر مانگے جائیں یہ ووٹ، کہا جائے کہ یہ وہی ووٹ ہیں جو حضرت زہرا(س) نے مدینے میں مانگے تھے لوگوں سے۔ اللہ اکبر! حضرت زہرا(ع) ووٹ مانگنے نہیں گئیں تھیں گھروں پر، بلکہ گواہی مانگنے گئی تھیں کہ جو کچھ سُنا ہے غدیر میں آکر اُسکی شہادت دو نہ کہ ووٹ دو، علیؑ ووٹوں سے ولی نہیں بنے، ووٹوں سے کوئی ولی نہیں بنتا-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲