21 اپریل 2013 - 19:30
ميانمار ميں مسلمانوں پر بدھسٹوں کے حملے

روہنگيا مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند بدہسٹوں کے حملے جاري ہيں اور پوليس خاموش تماشائي کا کردار ادا کر رہي ہے- خبر رساں ايجنسيوں کےمطابق ميانمار کي پوليس مسلمانوں کي مساجد اور سپرمارکيٹوں پر انتہا پسندوں کے حملوں ميں محض تماشائي بني ہوئي ہے-

ابنا: رپورٹوں ميں کہا گيا ہے کہ ميانمار کي پوليس مسلمانوں کے املاک کے خلاف انتہا پسندوں کے حملے روکنے کے بجائے ايک طرف کھڑے ہوکر صرف ان مناظر کي فلميں تيار کرتي ہے جو انہائي حيرت کا باعث ہے- خبر رساں  ايجنسيوں اور انٹر نيٹ سائٹس پر جاري ہونے والي فوٹيج کےمطابق انتہا پسند بدھسٹ مسلمانوں کے خلاف ايک بار پھر خوني حملے کر رہے ہيں-

انساني حقوق کے بہت سے کارکنوں  نے يورپي يونين پر الزام لگايا ہے کہ اس نے ميانمار ميں انساني حقوق کي خلاف ورزيوں پر اپني آنکھين بند کر رکھي ہيں-

جون دوہزار بارہ ميں مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند بدھسٹوں کے حملوں کي نئ لہر شروع ہوئي ہے  جب سے اب تک سيکڑوں کي تعداد ميں مسلمان جانبحق اور دو لاکھ سے زيادہ بے گھر ہوئے ہيں.

.....

/169