ابنا: پولیس کے مطابق بوسٹن دھماکوں کا گرفتار ملزم مرنا چاہتا تھا ،ملزم نے اپنے منہ میں پستول رکھ کر گولی چلادی تھی جس سے اس کے حلق کو نقصان پہنچا ہے۔ جوہر سارنیو کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے تاہم وہ اب تک بیان ریکارڈ کرانے کے قابل نہیں۔ پولیس حکام کے مطابق دونوں ملزم شاید دھماکوں سے پہلے طے کرچکے تھے کہ وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے خودکشی کرلیں گے۔ جوہر سارنیو کا بھائی تیمور سارنیو جمعے کو پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ امریکی پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش سے پتا چلا ہے کہ دونوں ملزمان انفرادی طور پر کام کررہے تھے اور ان کا کسی گروپ سے تعلق ثابت نہیں ہوا۔
.....
/169