20 اپریل 2013 - 19:30
بوسٹن دھماکے اور پوليس کي کاروائي

امريکي شہر بوسٹن ميں ہونے والے بم دھماکوں ميں شريک مشتبہ افراد يا ملزمان کو گرفتار کرنے کي کاروائي دو چچن نژاد بھائيوں کا پيچھا کرنے اور ان ميں سے ايک کو ہلاک اور دوسرے کو زخمي حالت ميں گرفتار کرلينے کے بعد مکمل ہوگئي ہے -

ابنا: امريکي شہر بوسٹن ميں ہونے والے بم دھماکوں ميں شريک مشتبہ افراد يا ملزمان کو گرفتار کرنے کي کاروائي دو چچن نژاد بھائيوں کا پيچھا کرنے اور ان ميں سے ايک کو ہلاک اور دوسرے کو زخمي حالت ميں گرفتار کرلينے کے بعد مکمل ہوگئي ہے - ان دونوں چچن نژاد بھائيوں کے نام جن کي عمريں چھبيس  اور انيس سال ہيں تيمورلنگ سارنائف اور جوہر سارنائف ہيں - ان دونوں ملزمان ميں سے ايک کو ہلا ک اور دوسرے کو گرفتار کرلئے جانے کے بعد امريکي صدر باراک اوباما نے وائٹ ہاؤس ميں کہا کہ انصاف کا تقاضا پورا ہوگيا ہے –       بوسٹن بم دھماکوں ميں دو چچن نژاد باشندوں کا نام سامنے آنے کے بعد اس سلسلے ميں نئے سوالات جنم لے رہے ہيں - اول يہ کہ وہ لوگ جو امريکا کو رہنے يا پھر تعليم حاصل کرنے کے لئے منتخب کرتے ہيں وہاں جانے کے بعد   اس ملک کے خلاف دہشتگردانہ کاروائيوں ميں کيونکر شامل ہوجاتے ہيں ؟ دوسرے يہ کہ اگر ان دونوں نوجوان بھائيوں کا جرم بوسٹن دھماکوں ميں ثابت ہوجاتا ہے تو بھي يہ سوال ہوتا ہے کہ ان دونوں بھائيوں نے ميراتھن کے دوران يہ دھماکے کيوں کئے اور کس چيز نے انہيں ايسا کرنے پر مجبور کيا تھا ؟

تيسرے يہ کہ کيا ان دونوں بھائيوں نے اکيلے ہي  ان دھماکوں کو انجام دينے کا منصوبہ تيار کيا تھا اور اس کے پيچھے تيسرا کوئي نہيں تھا ؟ اور انہيں کہيں سے کوئي مدد نہيں ملي تھي ؟ ان سوالوں کےساتھ ساتھ دو اور اہم سوال بھي پائے جاتے ہيں جو امريکا کے بعض ذرائع ابلاغ اور سوشل نيٹ ورکنگ سسٹم پر موجود ہيں   اور يہ دونوں ہي سوال اس نکتے پر تاکيد کرتے ہيں کہ   دوسال قبل کسي دوسرے ملک نے تيمور لنگ سار نائف کي مشکوک سرگرميوں کے بارے ميں امريکا کے سيکورٹي حکام کو خبردار کيا تھا ليکن ايسا لگتا ہے کہ اس انتباہ کا کوئي نوٹس نہيں ليا گيا تھا – اس خبر کو اگر سچ مان ليا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ کس ملک نے امريکا کو خبردار کيا تھا اور کيا امريکا کي سيکورٹي ايجنسيوں نے اس طرح کے دہشتگردانہ اقدامات کو روکنے کے لئے اپنے فرائض پر صحيح طريقے سے عمل کيا ؟       بہرحال اگر بوسٹن بم دھماکوں ميں دو چچن نژاد باشندوں کے شامل ہونے کا امريکي حکام کا دعوي ثابت ہوجاتا ہے تو ايسے ميں امريکي حکومت کي انسداد  دہشتگردي کي پاليسي ميں ايک بنيادي نقص سامنے آتي ہے اور وہ يہ کہ چچن شدت پسندوں کو سالہا سال سے امريکا اور مغربي ملکوں کي حمايت حاصل رہي ہے جس کے ذريعےوہ ماسکو پر دباؤ ڈالتے رہے ہيں - اس وقت چچن جنگجوؤں کے ليڈر لندن ميں مقيم ہيں اور ماسکو نے انہيں روس کي تحويل ميں دينے کے لئے برطانيہ سے بارہا درخواست کي ہے جس کا کوئي نتيجہ نہيں نکلا ہے - ايسا لگتا ہے کہ امريکا ميں بھي روس مخالف سرگرمياں انجام دينے کے لئے کچھ چچن جنگجوؤں کو حالات و اسباب فراہم ہيں - ان تمام باتوں کے پيش نظر يہاں کہنا چاہئے کہ دہشتگردي کوئي ايسي چيز تو نہيں ہے کہ امريکي حکام جب چاہيں اس سے اپنے مخالفين کے خلاف استفادہ کريں اور جب چاہيں اس کو کنٹرول کرليں -

    اس حقيقت کا اس سے  پہلے افغانستان پر سابق سويت يونين کے قبضے کے دوران القاعدہ کے لئے امريکي حمايت اور بعد ميں القاعدہ سے امريکي دشمني ميں بھي مشاہدہ کيا جاچکا ہے- اس دور ميں امريکا نے  مشرقي سپر پاور سے مقابلہ کرنے کي غرض سے شدت پسندگروہوں کو تيار کيا اور ان کو پروان چڑھايا جس کےنتيجے ميں طالبان اور القاعدہ  وجود ميں آئے –

ليکن کچھ ہي عرصے بعد يہ گروہ خود امريکي سي آئي اے کے لئےوبال جان بن گئے -

        البتہ امريکا کا يہ رويہ صرف افغانستان ميں ہي طالبان اور القاعدہ کو جنم دينے تک محدود نہيں ہے اس وقت بھي امريکي حکومت جو پوري دنيا ميں القاعدہ کا صفايا کرنے کا دعوي کرتي ہے اس گروہ کے افراد کو شام ميں ہتھيار اور پيسے فراہم کررہي ہے  تاکہ وہ صدر بشار اسد کي حکومت کے خلاف جنگ کريں –

ابھي چند روزقبل ہي شام ميں سرگرم دہشتگرد گروہ جبہہ النصرہ نے جو خود کو فري سيرين آرمي کا حصہ کہتا ہے القاعدہ کے سرغنہ اور اسامہ بن لادن کے جانشين ايمن الظواہري سے بيعت کا اعلان کيا ہے –

جبہہ النصرہ کي طرف سے القاعدہ کي  بيعت کا اعلان کرنے کے بعد بھي امريکي حکومت نے اس دہشتگرد گروہ کے لئے اپني مالي اور اسلحہ جاتي حمايت بند نہيں کي ہے بلکہ امريکي حکومت نے اعلان کيا ہے کہ اختتام ہفتہ ترکي ميں ہونےوالے اجلاس ميں امريکي وزير خارجہ جان کيري شام ميں سرگرم مسلح گروہوں کے لئے امريکا کي دوسو ملين ڈالر کي نئي امداد کا اعلان کريں گے-

ليکن جس طرح سے امريکي عوام اکيسويں صدي کے دوسرے عشرے ميں بيس سال پہلے ان چجن جنگجوؤں کي اپنے ہي خلاف دہشتگردانہ کاروائيوں کا مشاہدہ کررہے ہيں اسي طرح وہ آئندہ برسوں ميں شام ميں سرگرم دہشتگرد گروہوں کے ذريعے بھي جن کي امريکي حکومت کھل کراس وقت حمايت کررہي ہے امريکي شہروں ميں دہشتگردانہ کاروائيوں کا مشاہدہ کريں گے تجربے سے يہ بات ثابت ہوچکي ہے کہ بوتل سے نکلے ہوئےجن کو دوبارہ بوتل ميں بند کرنا غير ممکن ہوتا ہے –

.....

/169