31 مارچ 2013 - 19:30

بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم بيگم خالدہ ضیا کے دفتر پر فائرنگ ہوئي ہے۔

ابنا: پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ حملہ اپوزیشن کی طرف سے کل منگل کو ملک گير ہڑتال کی کال دینے کے کچھ گھنٹوں بعد ہوا۔ اپوزیشن میں شمالی بنگلادیش کے علاقے چاپائي نواب گنج اور سراج گنج کی جھڑپوں پراحتجاج کرنےکے لئے ہزتال کی کال دی ہے۔ حملے کے وقت سابق وزیر اعظم اپنے دفتر میں تھیں۔ خالدہ ضیا بنگلادیش کی نیشنل سوشلسٹ پارٹی کی سربراہ ہیں۔ حملے میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں کوئي رپورٹ موصول نہیں ہوئي ہے تاہم پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ واضح رہے شمالی علاقے چاپائی نواب گنج میں جمعے کے دن حکومت کے خلاف بڑے مظاہرے ہوئےتھے۔ یہ مظاہرے بنگلادیش کی جماعت اسلامی نے کرائے تھے۔ مظاہرین پر پولیس نے پلاسٹیک کی گولیاں اور آنسو گيس کے گولے داغے تھے جس میں پانچ مظاہرین ہلاک اور سترہ زخمی ہوئے تھے۔ درایں اثنا انسانی حقوق کی تنظیموں نے بنگلادیش میں فوری طورپر تشدد کے خاتمے کی اپیل کی ہے۔ بنگلادیش میں کچھ دنوں پہلے جماعت اسلامی کے سینئر رہنماؤں کو موت کی سزائيں سنائے جانے کے بعد سے تشدد شروع ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242