ابنا: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکی جاسوسی تنظیم سی آئی اے نے شام کے مسلح باغیوں کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کر کے شام میں ہونے والی جھڑپوں میں اپنے کردار کو مزید بڑھایا ہے۔ اس اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ اقدامات شام میں سیکولر طاقتوں کو مضبوط بنانے کے لئے امریکی حکومت کی کوششوں کا ایک حصہ ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سی آئی اے نے شام میں اپنے بنائے گئے مسلح گروہوں کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کر کے شام میں دو سال سے جاری جھڑپوں میں امریکی کردار کو مزید وسعت دی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی حکام ایسے افسروں کو بھی ترکی بھیج رہے ہیں کہ جو شامی باغیوں کو خلیج فارس کے ممالک سے آنے والے اسلحے کو استعمال کرنے کی تربیت دے رہے ہیں۔
دوسری جانب شامی حکومت کے مخالفین کے اتحاد کے سربراہ احمد معاذ الخطیب نے بعض ممالک کی جانب سے شام کے انتہا پسند گروہوں کی وسیع پیمانے پر حمایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شام کے اندر دہشت گرد گروہوں کی موجودگي کا اعتراف کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ ترکی میں شام کے مخالفین کے اجلاس کے سخت مخالف ہیں اور شام میں ترکی کی کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت سے علاقائی طاقتیں مداخلت کر سکتی ہیں جس سے پورے مشرق وسطی کے علاقے کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
.....
/169