ابنا: اطلاعات کے مطابق مصر کے صدر محمد مرسی نے ملک میں ہونے والے مجوزہ پارلیمانی انتخابات کو نئے آئین کی تدوین اور اس کو عدالت میں پیش کئے جانے تک ملتوی کردیا ہے۔محمد مرسی نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ پارلیمانی انتخابات منسوخ کئے جانے سے متعلق عدالت کے حکم پر ا عتراض کے باوجود انتخابات کا انعقاد نئے آئین کی تدوین اور اس کو عدالت میں پیش کئے جانے تک ملتوی کیا جارہا ہے۔صدر محمد مرسی کی طرف سے انتخابات کو ملتوی کئے جانے کی اصل وجہ انتخابات روکنے پر مبنی عدالتی حکم کا مکمل احترام بتایا گيا ہے۔
مصر میں مجوزہ پارلیمانی انتخابات 22 اپریل کو ہونے تھے لیکن انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد مصر میں بدامنی میں شدت پیدا ہوگئي۔اخوان المسلمین اور مرسی حکومت کے مخالفین ملک میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو مصر کے سیاسی میدان میں سنجیدہ موجودگي اور اخوان المسلمین کے نظریات پر مشتمل ایک سیاسی نظام کی تشکیل روکنے کی غرض سے اپنے لئے آخری موقع تصور کرتے ہیں۔اسی بنا پر مجوزہ پارلیمانی انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور انتخابات کے التوا کو انہوں نے اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا۔مصری حکومت کے مخالفین نے دھمکی دی تھی کہ صدر مرسی کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگانے اور انتخابات میں لوگوں کی شرکت کو کم کرنے کی غرض سے وہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔ان حالات میں جو پارلیمنٹ قائم ہوتی وہ طاقت و اختیارات اور ضروری استحکام کے فقدان کا شکار ہوتی اور نتیجتا" مصر میں سیاسی تعطل بدستور جاری رہتا۔مصری حکومت کے مخالفین نے اپنے مقصد کے حصول کے لئے حکومت مخالف احتجاج کے سلسلے کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا تاکہ عدم استحکام میں شدت پیدا ہو اور انتخابات منعقد نہ ہوسکیں۔اسی درمیان مصرکے سپریم کورٹ نے بھی گزشتہ ہفتے انتخابات کے انعقاد کے صدر مرسی کے حکم پر عمل درآمد کو رکوانے پر مبنی اپیل پر پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کو روکنے کا حکم دے دیا۔عدالت کے اس حکم سے انتخابات ملتوی کرانے کی حکومت مخالفین کی کوشش کو بہت زیادہ مدد ملی ہے۔
مصرکے ان حالات اور عدم استحکام کی وجہ سے صدر مرسی مجوزہ پارلیمانی انتخابات کو ملتوی کرنے پر مجبور ہوگئے البتہ اس سے پہلے مصر کے ایوان صدرنے عدالتی فیصلے پر باقاعدہ طور سے اعتراض کیا تھا۔بہرحال، ایسا نہیں لگتا کہ انتخابات کا التوا حکومت مخالف سرگرمیاں رکنے اور ملک میں امن و استحکام کی بحالی کا سبب بنے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ مصر کےعوامی انقلاب کو ملک کے سیاسی گروپوں کے درمیان جاری رسہ کشی کی وجہ سے سخت حالات کا سامنا ہے اور اس میں کوئي شک نہیں کہ اس خطرناک کھیل سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے مصری عوام ہیں جو ہر روز عدم استحکام و بدامنی کے واقعات اور زندگی سخت تر ہونے کا مشاہدہ کررہے ہیں۔
.....
/169