8 مارچ 2013 - 20:30

افغانستان کا پہلا عالمی خواتین فلم فیسٹیول خواتین کے عالمی دن کے موقع پر مغربی شہر ہرات میں شروع ہے۔

ابنا: ایونٹ 7 مارچ سے 9 مارچ تک جاری رہے گا جس میں افغانستان، ایران، کینیڈا، جنوبی کوریا، چین اور بنگلہ دیش سمیت 20 ممالک سے 30 فلمیں پیش کی جائیں گی۔ فیسٹیول کی چیئر پرسن رویا سادات کا کہنا تھا کہ فلمی میلے کا مقصد افغان خواتین اور بیرون ممالک خواتین کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنا اور ایسے فورم کے طور پر کام کرنا ہے جہاں خواتین کو درپیش چیلنجز پر بحث کی جا سکے۔ اداکارہ اور ہدایت کارہ عقیلہ رضائی کا کہنا تھا کہ طالبان حکمرانی کے بعد ملک میں صورتحال بالخصوص خواتین کے لئے بہتر ہوئی ہے۔ افغان خواتین گزشتہ چند سالوں میں سینما کا حصہ بنی ہیں اور فلموں میں کام کرنے کے لئے ان کی دلچسپی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی سالوں سے افغان خواتین کا فلموں میں کام کرنا ناقابل قبول سمجھا جاتا تھا۔ میرے خیال میں اس حقیقت سے کہ خواتین فلموں میں کردار ادا کر رہی ہے غالباً افغان خواتین کے امیج میں مثبت انداز میں تبدیلی آئی ہے۔واضع رہے کہ افغانستان میں 1960,1970 اور 1980ء کی دہائیوں میں سالانہ درجنوں فلمیں بنائی جاتی تھیں لیکن خانہ جنگی کی وجہ سے اس کی فلمی صنعت تباہ ہو گئی اور طالبان جنہوں نے 1996ء سے 2001ء کے اختتام تک اپنے دور اقتدار میں ٹیلی ویژن اور فلموں پر پابندی عائد کر دی تھی۔

.....

/169